30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدخواہی سے بازرہتے ہیں تو اپنے خیر خواہ ہیں نہ کہ ہمارے،اس میں تکذیب نہ ہوئی،پھر بھی خلاف احتیاط و شنیع ضرور ہے خصوصا یہود ومشرکین سے خصوصا سربرآوردہ مسلمان کو جس کے کم ہونے میں وہ اشقیاء اپنی فتح سمجھیں وہ جسے جان وایمان دونوں عزیز ہیں اس بارے میں کریمہ لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ لَا یَاۡ لُوۡنَکُمْ خَبٰلًاؕ "[1]کسی کافر کو راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بد خواہی میں گئی نہ کریں گے۔وکریمہ " وَلَمْ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلَارَسُوۡلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ"[2] اﷲ وررسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو دخیل کار نہ بنانا،وحدیث مذکور لاتستضیئوا بنار المشرکین [3](مشرکوں کی آگ سے روشنی نہ لو) بس ہیں۔اپنی جان کامعاملہ اس کے ہاتھ میں دے دینے سے زیادہ کیا راز دار ودخیل کار ومشیر بنانا ہوگا،امام محمدعبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
|
واشد فی القبح واشنع ماارتکبہ بعض الناس فی ھذا الزمان من معالجۃ الطبیب والکحال الکافرین اللذین لایرجی منہما نصح ولاخیر بل یقطع بغشہما واذیتہما لمن ظفرا بہ من المسلمین سیما ان کان المریض کبیرا فی دینہ اوعلمہ [4]۔ |
یعنی سخت تر قبیح وشنیع ہے وہ جس کاارتکاب آجکل بعض لوگ کرتے ہیں،کافر طبیب اورسیتے سے علاج کرانا،جن سے خیر خواہی اور بھلائی کی امید درکنار یقین ہے کہ جس مسلمان پر قابو پائیں اس کی بد سگالی کرینگے اور اسے ایذا پہنچائیں گے خصوصاجبکہ مریض دین یا علم میں عظمت والا ہو۔ |
پھر فرمایا:
|
لہم لا یعطون لاحد من المسلمین شیئا من الادویۃ التی تضرھا ظاھرا لانہم لو فعلوا ذلك لظہر غشہم و انقطعت مادۃ معاشہم لکنہم یضیفون لہ من الادویۃ مایلیق |
یعنی وہ مسلمان کو کھلے ضرر کی دوانہیں دیتے کہ یوں تو ان کی بدخواہی ظاہر ہوجائے اور ان کی روزی میں خلل آئے بلکہ مناسب دوا دیتے اور اس میں اپنی خیر خواہی وفن دافی ظاہر کرتے ہیں اور کبھی مریض اچھا ہوجاتاہے جس میں ان کا نام ہو اور معاش خوب چلے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع