30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہی مطلق کے لئے بتایا اور اسے اس گمان کا کہ ان سے مخالفت تو دین میں ہے دنیوی امور میں بدخواہی نہ کریں گے،رد ٹھہرایاکہ:
|
ان المسلمین کانوا یشاورونہم فی امورھم و یؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع والحلف ظنا منہم انہم خالفوھم فی الدین فہم ینصحون لہم فی اسباب المعاش فنہاھم اﷲ تعالٰی بہذہ الایۃ عنہ،فمنع المؤمنین ان یتخذوا بطانۃ من غیر المومنین فیکون ذٰلك نہیا عن جمیع الکفار وقال تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء ومما یؤکد ذٰلك ماروی انہ قیل لعمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھہنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لا یعرف اقوی حفظا ولااحسن خطا منہ،فان رأیت ان تخذہ کاتبا فامتنع عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ من ذٰلك و قال اذا اتخذت بطانۃ من غیر المومنین فقد جعل عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھذہ الایۃ دلیلا علی النہی عن اتخاذ النصرانی بطانۃ [1]۔ |
مسلمان اپنے دنیوی معاملات میں کافروں سے مشورہ کیا کرتے تھے اور ان سے موانست رکھتے تھے اس لئے دونوں کے درمیان رضاعت اور قسمیں تھیں،پس مسلمانوں کایہ خیال تھا کہ اگر چہ کافر دین میں ان کے مخالف ہیں تاہم اسباب معاش وغیرہ میں ان کے خیرخواہ ہیں،پھر اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کو اس آیۃ مذکورہ میں کافروں کے ساتھ رواداری اور راز داری سے منع فرمایا لہذا اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کو اہل ایمان کے علاوہ غیروں کو راز دار بنانے کی ممانعت فرمائی،پھر یہ تمام کافروں سے نہی ہے۔اور اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو!میرے اوراپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ اور اس کی اس روایت سے تاکید ہوتی ہےکہ جس میں یہ مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں یہ درخواست کی گئی کہ یہاں اہل جیرہ میں سے ایك شخص عیسائی ہے اس کی یادداشت(قوت حافظہ)بھی بڑی قوی ہے اور خط بھی خوبصورت(یعنی خوشنویس)ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے ہاں اسے منشی مقرر کرلیں،ارشاد فرمایا پھر تومیں غیر مسلموں کو اپنا راز دار بنالیا،لہذا حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس آیۃ مذکورہ کو اس پر دلیل ٹھہرایا کہ عیسائی کو راز دار بنانے کی ممانعت ہے۔(ت) |
اس سے جملہ انواع معاملت کیوں ناجائز ہوگئے۔بیع وشراء اجارہ داستئجار وغیرہا میں کیا راز دار
[1] مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ یایہاالذین آمنوا لاتتخذوا بطانۃ الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ مصر ۸ /۱۰۔۲۰۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع