30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درج ہے کہ"مسلمان کو اگر ڈوبنے پر یقین نہ ہو ہاتھ پاؤں مارکر بچ جانے کی امیدہو یا کوئی مسلمان فریاد رس خواہ کوئی درخت وغیرہ ملنے کاظن ہو تو کافر کو ہاتھ دینے کی اجازت نہیں الخ"،معلوم ہوتاہے کہ کفار سے معاملت کی بھی اجازت نہ ہو ان سے علاج بھی نہ کرائے " لَا یَاۡ لُوۡنَکُمْ خَبٰلًا " (وہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ت)سے کیا مقصودہے آیا دین کے معاملہ میں کفار محارب فی الدین نقصان پہنچانے میں کمی نہ کریں گے یا ہر معاملہ میں اور ہروقت جب موقع پائیں اور ایك کافر گو غیر محارب ہو تفسیر کبیر میں آیہ کریمہ " لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ "الی اٰخرالایۃ(اﷲ تعالٰی تمھیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جو تم سے جنگ نہیں کرتے الی اخر الآیۃ۔ت)کے متعلق لکھاہے:
|
وقال اھل التاویل ھذہ الایۃ تدل علی جواز البربین المشرکین والمسلمین وان کانت الموالاۃ منقطعۃ [1]۔ |
(امام رازی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ)ائمہ تفسیر نے اس آیۃ کے متعلق فرمایا کہ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اہل شرك اور اہل اسلاام کے درمیان حسن سلوك کرنا جائز ہے اگرچہ موالات منقطع ہے(ت) |
رسالہ الرضا بابت ماہ ذیقعدہ حصہ ملفوظات ص ۸۶ میں ہے:"حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انھیں سے خلق فرماتے ہیں جو رجوع لانے والے ہوتے جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے اور کفار ومرتدین کے ساتھ ہمیشہ سختی فرمائی الخ"بعض کفار کی انکھوں میں سلائی پھیرنا تو قصاصا تھا کیا رسول کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم قبل نزول آیت
" یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیۡنَ "[2](اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ت)نرمی نہ فرماتے تھے اور کیا رجوع نہ لانے والے تھے ان سے ہمیشہ بشدت پیش آتے تھے یا پہلے ان سے بھی نرمی سے پیش آتے،کفار مختلف طبائع کے تھے،اور ہیں بعض کو اسلام اور مسلمانوں سے سخت عداوت ہے اور بعض کو بہت کم۔کیا سب سے یکساں حکم ہے یا امر المعروف(نہی عن المنکر میں ان سے حسب مراتب تدریجًا سختی کرنے کاحکم ہے اور محارب وغیر محارب کا فرق ہے۔حضور فدوی کو اس مسئلہ میں کہ مرتدہ کا نکاح باقی رہتاہے لیکن فتاوٰی کی کتابوں کے خلاف ہونے کی وجہ خلجان رہتاہے حضور کے فتاوٰی میں اور کتابوں کے خلاف لکھاہے گو بعض احکام بوجہ اختلاف زمانہ مختلف ہوجاتے ہیں،لیکن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع