30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امر فرمود وہمبرین محمول باشد آنچہ شاہ محمد غوث گوالیاری وحضرت شیخ محمد شناوی وغیرہما اجلہ اکابر قدست اسرارہم کردہ اندو درکتب نفیسسہ خود ہا ہمچو جواہر وشروح آن باوتصریح فرمودہ فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق [1]۔ |
دواؤں میں مناسب مقصود،اور وہ اﷲ تعالٰی کے فیصلہ کے مطابق واقع ہو(اور ان کا ظہور ہو)پس اس صورت میں کچھ ڈر نہیں(کیا غورنہیں کرتے)کہ خود وہ بزرگ ہستی جو اﷲ تعالٰی غالب اور جلیل القدر کے معاملات میں بہت سخت گیر تھے یعنی مومنوں کے امیر حضرت عمر،سب سے بڑے فرق کرنےوالے(یعنی حق وباطل میں معیار اور کسوٹی)،اﷲ تعالی ان سے راضی ہو،نے طلب باراں کی دعا مانگتے وقت منزل قمر کی رعایت کرنے کاحکم فرمایا،اور اسی پر وہ سب باتیں قیاس شدہ ہیں جو شاہ محمدغوث گوالیاری اور حضرت شیخ محمد شناوی اور ان کے علاوہ دوسرے جلیل القدر اکابرین نے(ان کے اسرار ورموز پاك کردئے جائیں)اپنی اپنی عمدہ کتابوں میں ذکر فرمائیں،جیسا کہ جواہر خمسہ اور اس کی شروح میں ان کی صراحت فرمائی،لہذا توفیق ہونی چاہئے،اور حصول توفیق اﷲ تعالٰی کے فضل وکرم ہی سے ہوسکتی ہے۔(ت) |
مسئلہ ۸۱: ازشہرکہنہ محلہ قاضی ٹولہ کلن خاں ۴ محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے پالے کی بازی بدی،پھر ایك شخص کے سمجھانے سے منکر ہوگیا،جب پالے والے مصر ہوئے اور کھیل پر مجبور کیا تو اس معصیت کے بچانے کی غرض سے دو شخصوں نے جھوٹ کہہ دیا کہ اس نے بازی نہیں بدی تھی،پس بازی والوں نے ان دو شخصوں سے طعنا پوچھا کیا تمھارے یہاں فقیری میں جھوٹ بولنا اور حرام کھانا جائزہے؟ ان شخصوں نے جواب دیا:ہاں اس میں جائزہے۔اور نیت جانب خیر سے یہ الفاظ کہے،پس اس صورت میں ان پر کیا معصیت ہے؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
سوال میں حرام کھانا بھی تھا اور حرام کھانا کبھی جائز نہیں ہوتا جس وقت جائز ہوتا ہے اس وقت وہ حرام نہیں رہتا اگر"ہاں جائز ہے"کہنے میں حرام کھانا بھی اس نے مراد لیا تو البتہ سخت لفظ کہا توبہ لازم ہے بلکہ تجدید اسلام چاہئے،اوراگر صرف جھوٹ بولنے کی نسبت کہا کہ ایسی صورت میں جہاں حرام سے بچنا ہوتا ہو خلاف واقع بات کہنا جائز ہے توحرج نہیں،اگر چہ اس میں بھی تفصیل ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع