30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہیں:"(اے شخص!)اپنے والدین کی اطاعت کیجئے اگر چہ تمھیں تمھارے مال اور تمھارے ہر مملوکہ شے سے تمھیں الگ اور برطرف کردیں"اس کو خوب سمجھ لیجئے،اور ہوشیاری سے ثابت قدم رہیے،کیونکہ فقہ بغیر سمجھے نہیں ہوسکتی،اور سمجھ بوجھ حصول توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتی ت)رسالہ جلی النص فی اماکن الرخص ختم شد)
مسئلہ ۶۸ و ۶۹: مسئولہ عبدالرحیم صاحب دکان محمد عمر صاحب عطار محلہ پاٹہ نالہ لکھنو
حضرت قامع ضلالت قیم ومروج سنت حسناتکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!
(۱)جناب کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ زید نے مؤذن مسجد کی اذان کے ساتھ تمسخر کیا یعنی لفظ حیّ علی الصلوٰۃ سن کر یوں یوں مضحکہ اڑایا"بھیا لٹھ چلا"آیا زید کےلئے حکم ارتداد و سقوط نکاح ثابت ہوا یانہیں؟ اور زید کا نکاح ٹوٹا یانہیں؟ اس کی منکوحہ اس پر حرام ہوئی یانہیں؟ اور بغیر دوبارہ نکاح میں لائے ہوئے وطی کرنا حرام اور زنا کاری ہے یانہیں؟ اور بعد علم اگر منکوحہ زید نہ مانے اور ہمبستری ہوتی رہے تو منکوحہ زید پر بھی شرعا جرم زنا عائد ہوگایانہیں؟
(۲)زید نے ایك مرتبہ شعار اسلام داڑھی کے متعلق کہا کہ میں داڑھی نہیں رکھوں گا مجھے ان خفاش پروں کی ضرورت نہیں،یہ بھی دین کے ساتھ استہزاء اور موجب ردت وسقوط نکاح ہے یانہیں؟ اور زید کا عذر کہ ہم کو مسئلہ معلوم نہ تھا لہذا ہمارا نکاح باقی ہے۔شریعت میں مقبول ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)اذان سے استہزاء ضرور کفر ہے اگر اذان ہی سے اس نے استہزاء کیا تو بلا شبہہ کافرہوگیا،اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی،یہ اگر پھر مسلمان ہو اور عورت اس سے نکاح کرے اس وقت وطی حلال ہوگی ورنہ زنا،اور عورت اگر بلا اسلام ونکاح اس سے قربت پر راضی ہو وہ بھی زانیہ ہے۔اور اگر اذان سے استہزاء مقصود نہ تھا بلکہ خاص اس مؤذن سے بایں وجہ کہ وہ غلط پڑھتا ہے تو اس حالت میں زید کو تجدید اسلام وتجدید نکاح کاحکم دیا جائے گا،واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)داڑھی کے ساتھ استہزاء بھی ضرور کفرہے۔زید کاایمان زائل اورنکاح باطل اور عذر جہل غلط وعاطل کہ زید نہ کسی دور دراز پہاڑ کی تلی کا رہنے والا ہے نہ ابھی تازہ ہندو سے مسلمان ہوا ہے کہ اسے نہ معلوم ہو کہ داڑھی شعار اسلام ہے۔اور شعار اسلام سے استہزاءاسلام سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع