30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الغالب الرائ لایخرج بغیر اذنہما و کذٰلك ان کانت سریۃ اوجریدۃ الخیل لایخرج الاباذنہما لان الغالب ہو الہلاك فی السرایا [1] اھ فتسمیۃ عصیانا بحسب الصورۃ الا تری ان العبد بسبیل من خیرۃ نفسہ فی نہی الشرع الارشادی الغیر الجازم فکیف بنہی الابوین کذٰلك لو لم یرد ذٰلك فکیف یحل عصیانھما لمنفعۃ مالیۃ وہذا نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قائلا ولا تعقن والدیك وان امراك ان تخرج من اھلك ومالك رواہ احمد [2] بسند صحیح علی اصولنا والطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولفظہ فی اوسط الطبرانی اطع والدیك وان اخرجاك من مالك وعن کل شیئ ہو لك [3] فافہم وتثبت بالتنبہ فلیس الفقہ الابالتفقہ و لا تفقہ الا بالتوفیق۔ |
کریں،پس اگریہ لشکر عظیم ہو کہ ان کی موجودگی میں غالب رائے کے مطابق دشمن سے کوئی خطرہ اور کھٹکا نہ ہو تو پھر اس صورت میں اس کے باہر جانے میں کچھ حرج نہیں لیکن اگر لشکر اسلام کو غالب رائے کے مطابق دشمن سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ وخطرہ ہو تو پھر والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائے اور اسی طرح اگر فوجی دستہ یا گھڑ سواروں کا رسالہ ہو تو بغیر اجازت والدین باہر نہ جائے کیونکہ فوجی دستوں میں غالبا ہلاکت ہوا کرتی ہے اھ پھر اس کو"عصیان"کہنا بلحاظ صورت ہے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ شرعی غیر جازم نہیں اورشادی کے باوجود بندے کو اپنے نفس کا اختیا رہوتاہے،پھر جب والدین کی نفی بھی ایسی ہے تو کیسے نہ ہوگااگریہ مراد نہ ہو تو پھر ا ن کا"عصیان"دنیاوی مالی فائدے کے لئے کیسے جائز ہوگا،یہ ہمارے حضور پاك صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمارہے ہیں" اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اگر چہ وہ تمھیں اہل وعیال اور مال سے الگ ہونے کا حکم دیں"امام احمد نے ہمارے اصولوں کے مطابق سند حسن کے ساتھ اس کو روایت فرمایا،اور امام طبرانی نے معجم الکبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اس کو روایت فرمایا۔اور اس کے الفاظ "اوسط طبرانی"میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع