30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بامان فکرہا(ای الابوان)خروجہ فان کان امرا یخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعہد یعرفون بذٰلك ولہ فی ذٰلك منفعۃ فلا باس بان یعصیھما [1] اھ فقد ابیح عصیا نہما للمنفعۃ اقول: یجب ان یراد بہ ما اذا کان نہیھما لمجرد محبۃ وکراہۃ فراقہ غیر جاز م ولذا فرضوا خروجہ بامان وکونہم معروفین بالوفاء حتی لا یخاف علیہ منہ اما اذا خیف لم یحل لہ الخروج بغیر اذنہما لان نہیھما اذن یکون نہی جزم ففی الکتابین بعدہ وانکان یخرج فی تجارۃ ارض العدو مع عسکر من عساکر المسلمین فکرہ ذٰلك ابواہ او احد ہما فان کان ذٰلك العسکر عظیما لا یخاف علیہم من العد وبالکبرالرائ فلا باس بان یخرج وان کان یخاف علی العسکر من العدو |
اجازت نامہ لے کر جانا چاہے لیکن والدین اس کے وہاں جانے کو ناپسند کریں،اگر معاملہ پر امن ہو،اس میں کوئی خطرہ اور اندیشہ نہ ہو،اور وہ وعدہ وفا کرتے ہوں اور اس وصف میں مشہور ومعروف ہوں اور اس کا بھی وہاں جانے میں فائدہ ہو،تو پھر اس صورت میں والدین کاحکم نہ ماننے میں کوئی حرج نہیں اھ(یہاں دیکھئے کہ)حصول فائدہ کےلئے والدین کی نافرمانی کو جائز اور مباح قرار دیا گیا اقول:(میں کہتاہوں) واجب ہے کہ اس سے وہ صورت مراد ہو کہ جس میں والدین کا اور اسے روکنا محض محبت اور شفقت کے طور پر ہو اور اس کی جدائی کا ناپسند ہونا غیر یقینی ہو،یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے خروج کو امن اور وہاں کے لوگوں کا وفادار ہونے میں مشہور ومعروف ہونے پر مسئلہ کو فرض کیا یہاں تك کہ اسے اس معاملہ میں کوئی خوف وخطرہ نہ ہو،لیکن اگر خطرہ واندیشہ ہو تو پھر والدین کی اجازت بغیر اس کا باہر جانا اور سفر کرنا جائز نہیں،اس لئے کہ دریں صورت ان کی نہی یقینی ہوگی،پھر ازیں بعد دو کتابوں میں مذکور ہے اگر کاروبار کے لئے دشمن کے ملك میں اسلامی فوجوں میں سے کسی اسلامی فوج کے ساتھ باہر جائے تو والدین یا ان میں سے کوئی ایك اس جانے کو ناپسند |
[1] فتاوی ٰ ہندیہ کتا ب السیر الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۱۸۹،فتاویٰ ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۶۔۳۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع