30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المروج الا بدفع شیئ الیہم فالدفع والاخذ حرام لانہ رشوۃ [1]۔ |
لانے دیتے جب تك کہ انھیں کچھ نہ دے،اور دینااور لینا دونوں حرام ہیں اس لئے کہ یہ رشوت ہے۔(ت) |
(۷)کعبہ معظمہ کی داخلی کس درجہ منفعت عظیمہ ہے مگر بے لئے دئے نہ کرنے دیں تو جائز نہیں کہ اس پر لینا حرام ہے تو دینا بھی حرام،اور حرام محض منفعت کے لئے حلال نہیں ہوسکتا،ردالمحتارمیں ہے:
|
فی شرح اللباب ویحرم اخذ الاجرۃ لمن یدخل البیت اویقصد زیارۃ مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام بلاخلاف بین علماء الاسلام وائمۃ الانام کما صرح بہ فی البحر وغیرہ اھ وقد صرحوا بان ما حرم اخذہ حرم دفعہ الا لضرورۃ ولا ضرورۃ ہنا لان دخول البیت لیس من مناسك الحج [2]اھ۔ |
شرح لباب میں ہے اس شخص کو اجرت دینا حرام ہے جو کسی کو کعبہ شریف کے اندر لے جائے،یا وہ مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کرنے کاارادہ کرے،اس مسئلہ میں تمام علماء کا اتفاق ہے۔علماء اسلام اور ائمہ انام میں سے کسی کا اختلاف نہیں جیسا کہ"بحررائق"وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی اھ،اہل علم نے یہ تصریح فرمائی کہ جس چیز کا لینا حرام اس چیز کا دوسرے کو دینا بھی حرام ہے۔مگریہ کہ خاص مجبوری ہو،اور یہاں کوئی مجبوری نہیں،کیونکہ کعبہ شریف کے اندر داخل ہونا احکام حج میں سے نہیں اھ(ت) |
اس پر حواشی فقیر میں ہے:
|
ولاہو واجبا فی نفسہ فمن الجہل ارتکابہ لاتیان مستحب بل این الاستحباب مع لزوم الحرام وما عن الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ من بذلہ شطر مالہ للسدنۃ لیبیت لیلۃ فی الکعبۃ الشریفۃ |
اور یہ اس بناء پر بذاتہٖ واجب بھی نہیں تو پھر مستحب ادا کرنے کے لئے اجرت دینے کا ارتکاب جہالت ہے بلکہ لزوم حرام کے ساتھ استحباب کیسے ہوسکتاہے۔اور جو کچھ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے مال کا کچھ حصہ خادمان کعبہ کےلئے خرچ کیا تاکہ خانہ کعبہ میں رات گزاریں اور وہاں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع