30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاخر نعم المعہود فی الہندان النساء یتعیرن بالزواج الثانی تعیراشدیدالکن ہذا من قبلہن بجہلہن لیس علیہ فیہ اخذ فلیتأمل[1] انتہی ما کتبت علیہ۔ |
اس پر دوباتوں میں سے ایك واجب ہے۔یا بھلائی کے ساتھ روك رکھنا یا احسان کرتے ہوئے چھوڑ دینا،اگریہ پہلی بات سے عاجز ہوگیا تو دوسری سے عاجز نہیں،ہاں البتہ ہندوستان میں مشہور ومتعارف یہ ہے کہ عورتیں دوسرا نکاح کرنے سے سخت عار محسوس کرتی ہیں،لیکن یہ پابندی عورتوں کی طرف سے عائد کردہ ہے ان کی ناسمجھی کی وجہ سے،اس میں اس پر کوئی گرفت نہیں،اس بات میں غور وفکر کرنا چاہئے،یہ آخر عبارت ہے جو میں نے اس کے حاشیہ میں لکھی۔(ت) |
(۲)حلال کام میں تیس۳۰ روپیہ مہینہ پاتاہے اور نصرانی ناقوس بجانے پر ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار دیں گے اس منفعت کے لئے یہ نوکری جائز نہیں۔
(۳)یوہیں بھٹی کے لئے شیرہ نکالنے کی،فتاوٰی امام اجل قاضی خان میں ہے:
|
رجل اٰجر نفسہ من النصاری لضرب الناقوس کل یوم بخسمۃ دراہم ویعطی فی عمل اٰخر کل یوم درھم قال ابراھیم بن یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی لاینبغی ان یؤاجر نفسہ منہم انما علیہ ان یطلب الرزق من موضع اٰخر وکذا لو اٰجر نفسہ منہم بعصر العنب للخمر لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ ولسم لعن العاصر [2]اھ۔ |
ایك آدمی عیسائیوں کے ہاں بگل بجانے کی نوکری اختیار کرتاہے کہ اسے ہر دن اس کام پر پانچ درھم ملیں گے لیکن اگر کوئی دوسرا جائز کام کرے تو اس پر یومیہ ایك درہم ملے گا امام ابراہیم بن یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ عیسائیوں کے باں بگل بجانے کی نوکری کرے،بلکہ اس کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی دوسری جگہ سے رزق حلال تلاش کرے،اوریہی حکم ہے اس شخص کا جو شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑنےکی ملازمت کرتاہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس باب میں جن بدنصیبوں پر لعنت فرمائی ان میں انگور نچوڑنے والا بھی شامل ہے (عبارت مکمل ہوگئی)۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع