30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان یخاف الضیعۃ علیہم [1]۔ |
اس پر لازم نہیں،اگر یہ موجود ہو تو ناپسندیدگی کے باجود اس کے باہر جانے میں کوئی حرج نہیں اگر چہ اس کے ضائع ہونے کا خدشہ ہو۔(ت) |
اور زینت وفضول کے لیے کسی ممنوع شرعی کی اصلا رخصت نہ ہوسکنا بھی ایضاح سے غنی جس پر اصل اول بدرجہ اولٰی دلیل وافی ورنہ احکام معاذاﷲ ہوائے نفس کا بازیچہ ہوجائیں،
اقول:یوہیں مجرد منفعت کے لئے کہ وہ اصل مدلول اصل اول اور اس پر کتب معتمدہ میں فروع کثیرہ دال:
(۱)حقنہ بضرورت مرض جائز ہے اور منفعت ظاہرہ مثلا قوت جماع کے لئے ناجائز ہے۔ردالمحتار میں ذخیرہ امام اجل برہان الدین محمود سے ہے:
|
یجوز الاحقان للمرض فلواحتقن لا لضرورۃ بل لمنفعۃ ظاہرۃ بان یتقوی علی الجماع لایحل عندنا [2] اھ |
بیمار کے لئے حقنہ کرنے کی اجازت ہے اگر اس نے بغیر ضرورت حقنہ لیا کسی ظاہر ی فائدے کے لے مثلا اس لئے کہ جماع پر قوی ہو تو ہمارے لئے یہ حلال نہیں اھ(ت) |
اس پر حواشی فقیر میں ہے:
|
اقول:ھذا ظاہر اذا کان معہ من القوۃ مایقدر بہ علی اداء حق المرأۃ فی الدیانۃ وتحصین فرجہا اما اذا عجز عن ذٰلك فہل یعد ضرورۃ الظاہر لالانہ بسبیل من ان یطلقہا فتنکح من شاءت فان الواجب علیہ احد امرین امساك بمعروف او تصریح باحسان فان عجز عن الاول لم یعجز عن |
میں کہتاہوں کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب اس میں قوت مردمی موجو دہو کہ جس کی وجہ سے یہ عورت کا حق ادا کرنے پرقدرت رکھتا ہے دیانت اور حفاظت فروج کے لحاظ سے لیکن اگر یہ اس سے عاجز ہے تو کیا اس کو بھی ضرورت میں شمار کیا جائے گا ؟ ظاہر یہ ہے کہ صورت ضرورت میں شمار نہیں،کیونکہ ز کہ اس صورت میں یہ عورت کو طلاق دے دے تو پھر وہ جس سے چاہے نکاح کرلے،کیونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع