30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ربہم امۃ وسطا فقالوا بالحق وقاموابالعدل وفاز وابفیوض الشریعۃ وانوارہا وعلینا بہم و لہم وفیہم یاارحم الراحمین ابدالابدین فی کل ان وحین عدد اوبار الہدایا واصواف الضحایا واشعار ہا اٰمین! |
سلام ہو)جن کو ان کے پروردگار نے درمیانی امت بنایا،پھر انھوں نے حق بیان فرمایا اور انصاف قائم کیا،اور شریعت کے فیوضات و انوار کی وجہ سے کامیاب ہوئے،پھر ان کی وجہ سے ہم پر اور ان کے لئے اور ان کے اندر،اے سب سے بڑے رحم کرنے والے ! ہر لمحہ اور ہمیشہ ہمیشہ رہے،قربانی کے اونٹوں کے بال اور مینڈھوں کی اون اور بکریوں کے بالوں کی تعداد کے مطابق رہے،یا اللہ! ہماری اس دعا کو شرف قبولیت سے نواز دے۔(ت) |
اما بعد،یہ چندسطور کا شفۃ الستور بعون الغفور لامعۃ النور(چندسطریں پردہ اٹھانے والی،گناہ بخشنے والے روشن نور کی مدد سے۔ت) اس بیان میں ہیں کہ بعض اوقات بعض ممنوعات میں رخصت ملتی ہے۔اس کی اجمالی تفصیل کیا ہے۔ظاہرہے کہ نہ ہر ممنوع کسی نہ کسی وقت مباح ہوسکتا ہے نہ ہر وقت ایسا کہ کسی نہ کسی ممنوع میں رخصت کی قابلیت رکھتا ہے ادھر اس کے متعلق بعض قواعد فقہیہ میں بظاہر تعارض معلوم ہوتاہے،
ایک: اصل یہ ہے کہ درء المفاسدا ھم من جلب المصالح [1]مفسدہ کا دفع مصلحت کی تحصیل سے زیادہ اہم ہے۔
حدیث ذکر کی جاتی ہے:ترك ذرۃ ممانہی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلین [2]۔ایك ذرہ ممنوع شرعی کا چھوڑدینا جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔
یہ قاعدہ مطلقًا لحاظ نہی بتاتا ہے۔
دوم: الضرورات تبیح المحظورات [3]مجبوریاں ممنوح کو مباح کردیتی ہیں۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کا استنباط کریمہ " فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ"[4]وکریمہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع