30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۶۵: از ریاست لشکر گوالیار بازار پاٹنگر مسئولہ عطا حسین صاحب مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن واقع مسجد بازار مذکور ۱۵ صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحمیم،نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
امابعد،کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اعلان کرنے والے صاحب کی بابت جو باوجود اہل علم اور سنت وجماعت ہونے کے اپنے اعلان کی سطر چودہ وپندرہ میں تحریرفرماتے ہیں،اعتراض اول یہ کہ اعلان کے شروع میں نہ حمد ہے۔نہ نعت۔اعتراض دوم سطور پندرہ وچودہ میں نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا وسیلہ بھی تحریر نہیں،یہ دونوں اعتراض صحیح ہیں یا غلط؟ اگر صحیح ہیں تو اعلان کرنے والے صاحب کے حق میں شرعی حکم کیا ہے؟ اور وہ اہل سنت وجماعت کہے جاسکتے ہیں؟ اور اگر غلط ہے تو کس طرح؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)امید ہے کہ حسب ذیل پتہ پر جواب باصواب سے مطلع فرمائیں گے تاکہ اس کو شائع کردیا جائے۔
الجواب:
جب سوال میں اعلان دہندہ کے سنی ذی علم ہونے کا اقرار ہے تو سنی خصوصا ذی علم پر ایسی باتوں میں مواخذہ کوئی وجہ نہیں رکھتا،شروع میں حمد ونعت،نہ لکھنا ممکن کہ بلحاظ ادب ہو کہ ایسے پرچے لوگ احتیاط سے نہیں رکھتے،اور وقت تحریر زبان سے ادا کرلینا کافی ہے۔جیسا کہ امام ابن الحاجب نے کافیہ میں کیا مسلمان پر نیك گمان کا حکم ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی: ظَنَّ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمْ خَیۡرًا ۙ " [1]۔ |
مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو اپنے لوگوں پراچھا گمان کرنا چاہئے۔(ت) |
سطر چودہ میں ہے:"وہ ہماری خطاؤں کو محض اپنے فضل وکرم سے معاف فرمائے"،اس میں توسل کا ذکر نہیں تو معاذاﷲ توسل سے انکار بھی تو نہیں،اور سنی کیونکر انکار کرے گا اور انکار کرے تو سنی کب ہوگا،مسلمان کے دل میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے توسل رچا ہوا ہے اس کی کوئی دعا توسل سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ بعض وقت زبان سے نہ کہے،
مولٰنا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎
اے بسانا وردہ استثنا بہ گفت جان اوباجان استثنا ست حقت [2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع