30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملاصاحب کی قیام گاہ میں ملاصاحب کو مدرسہ میں آنے کی دعوت دینے کو گئے،تو ملاصاحب نے ان لوگوں کو دس دس بیس بیس روپے کا انعام دے کر رخصت کیا،اب ارشاد فرمائیں کہ حنفیوں کا بوہرے فرقہ کے امام کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا کیسا ہے۔اگر ان ممبروں نے اس لالچ سے کہ ملا صاحب مدرسہ میں کچھ روپیہ دے جائیں گے ایسا کیا تو یہ ان کا ایسا کرنا کیسا ہے اور یہ لوگ حنفی مذہب کے مدرسہ کے ممبر مانے جانے کے قابل ہیں یانہیں اور بے پڑھے مسلمانوں پر اس کیا اثر پڑے گا؟
الجواب:
جن لوگوں نے ایسا کیا انھوں نے اپنے لئے جہنم کا سامان پورا کرلیا انھوں نے بدفعلی سے عرش الٰہی کو ہلادیا،انھوں نے واحد قہار کا غضب اپنے سرلیا،انھوں نے قرآن عظیم کی تحقیر کی،انھوں نے دین اسلام کے ڈھانے پر مدد دی،یہ اسی بنا پر ہے کہ انھوں نے روپیہ کے لالچ سے ایسا کیا اگر دل سے اسے ان تعظیموں کا مستحق جانتے تو کھلے کافر ہوتے،اور اب بھی فقہاء کے اطلاق ان کے بارے میں بہت سخت ہیں کہ وہ بخوشی بلا ضرورت ان ملعون حرکات کے مرتکب ہوئے ہیں ان پرفرض ہے کہ جس اعلان کے ساتھ ان ناپاك حرکتوں سے شیطان پھیلایا اور بے پڑھے مسلمانوں کا دین ڈھایا ابلیس لعین کا پھریرا سر بازار اڑایا اسی اعلان کے ساتھ عام مجمعوں میں توبہ کریں اور مناسب کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھیں پھر اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں،اگر توبہ نہ مانیں تو ایسے لوگ اس قابل بھی نہیں کہ مسلمان ان کو اپنے پاس بیٹھنے دیں سنی مدرسے کی رکنیت تو بڑی چیز ہے،اس حال پر بھی جو انھیں رکن مدرسہ دینیہ رکھیں گے اﷲ ورسول ومسلمین سب کے خائن وبدخواہ ہوں گے،اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ"[1] |
ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تم کو دوزخ کی آگ لگے گی۔ |
دوسری آیت میں ارشاد ہوا:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[2] |
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔ |
دو حدیثوں میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع