30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجرت اس پر لینا حرام،اوراگر انھوں نے یہ سمجھا کہ ہمارا وہ کام ایك مباح شرعی ہے کچھ واجب تو نہیں کہ اس کا کرنا ضرور ہو آٹھ دن محنت سے بچتے ہیں،اور مفت کے دام مال مباح کافر سے ملتے ہیں یہ سمجھ کر آرام کریں اور دام لئے تو حرام نہیں،پھر بھی اغراض فاسدہ کفار کی تحصیل نامناسب ہے ایسے موہومات کہ کیڑے ہوں گے اور پس جائیں گے شرعًا عرفًا عقلًا کسی طرح قابل اعتبار نہیں ورنہ رات کو چلنا منع ہوجائے کیا معلوم اندھیرے میں کوئی چیونٹی پس جائے بلکہ پانی پینا منع ہوجائے کیا معلوم اس میں کوئی باریك کیڑا ہو کہ نظر نہ آتاہو،بلکہ خوردبین سے مشاہدہ ہوا ہے کہ دودھ اور پانی سب میں یقیناکیڑے ہوتے ہیں،اور یہی مطابق قانون فطرت ہے کہ رطوبت میں حرارت جب عمل کرے گی فیضان روح ہوگا،تو دین ودنیا سب کی عافیت تنگ ہوجائے،ایسے بیہودہ خیال کسی طرح موافق اسلام نہیں ہوسکتے،صحیح حدیث میں ہے:
|
نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یفتش التمر عما فیہ،رواہ الطبرانی [1] فی المعجم الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس وہم کو پالنے سے منع فرمایا کہ کھاتے وقت چھوہارا توڑ کر اس کی تلاشی لیجائے کہ اس میں کوئی کیڑا تو نہیں(طبرانی نے معجم الکبیر میں ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسند حسن اسے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
(۲)اگر ان کے مذہبی تہوار کو اچھا جان کر منائے گا اسلام سے خارج ہوجائے گا،غمز العیون میں ہے:
|
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ [2]۔ |
جس آدمی نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو مشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ کافر ہوگیا۔(ت) |
ورنہ فسق ومعصیت ضرور ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)اﷲ عزوجل کی معصیت میں کسی کا اتباع درست نہیں،نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع