30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور فرماتاہے:
|
" وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ"[1] |
(لوگو!)ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔(ت) |
مسئلہ ۶۰ تا ۶۲: از گودھرہ مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی عبدالرحمٰن بن مولوی محمد عیسٰی صاحب ۲۳ / ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)قصبہ لونا واڑہ میں ہنودبکثرت رہتے ہیں یہ لوگ بماہ ساون آٹھ روز تہوار مناتے ہیں اس کو اپنی اصطلاح میں "پچوسن" کہتے ہیں،ان دنوں میں آٹھ روزے بھی اپنے مذہب کے موافق رکھتے ہیں اور جاندارشیئ کو مارنا اور تکلیف دینا برا سمجھتے ہیں،چنانچہ مسلمان تیلیوں کو اس بناء پر گھانی چلانے سے روکتے ہیں اس لئے کہ تلوں میں کچھ کیڑے جو ہوتے ہیں وہ پل جاتے ہیں،اس آٹھ روز گھانی نہ چلانے کے عوض میں روپے بھی دینا چاہتے ہیں پس مسلمانوں کو اس آٹھ روز گھانی نہ چلانا اور روپیہ لے کر اس امر میں ان کی اتباع کرنا کیسا ہے؟
(۲)جو مسلمان کہ ہنود کے تہوار میں ان کی موافقت کرے اور اس کو منائے اس کے لئے کیا وعید ہے؟
(۳)کسی قصبہ کا رئیس مسلمانوں کو کہے کہ تم ہنود کے تہواروں میں ان کی اتباع کرو ورنہ تم کو سخت اذیت پہنچاؤں گا،پس مسلمانوں کو اس امر میں رئیس کی اتباع درست ہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
انما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوٰی[2]۔ |
(یاد رکھو)اعمال کا مدار ارادوں پر ہے اور آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔(ت) |
اگر اس سے تیلیوں کی نیت ان کی موافقت اور ان کی رسم مذہبی میں شرکت ہے تو حرام ہے۔اور حرام فعل کی اُجرت میں جو کچھ لیا جائے وہ بھی حرام کہ اجارہ نہ معاصی پرجائز ہے نہ اطاعت پر،اور اگر انھوں نے یہ سمجھا کہ واقعی تیل پیلنا فعل شنیع ہے کہ اس سے کیڑے پِس جاتے ہیں تو یہ وہی خیالات باطلہ ہنود کی شرکت ہوئی،ایسا ہو تو یہ فعل ہمیشہ ناجائز ہے اور ناجائز کا ترك واجب اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع