30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باطن کے حالات کی نسبت کیا بیان کرتے ہیں،کیایہی زنا کی صورتیں ہیں۔
(۳)شیعہ قوم سے سنی کہاں تك شریك ہوسکتے ہیں؟
ان اوپر کہئے ہوئے وجوہ کی نسبت حضور کرم فرماکر اس فقیر کو جواب سے سرفراز فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی،خداوند کریم آپ کو جزائے خیردے گا۔
الجواب:
(۱)سنیوں کو غیر مذہب والوں سے اختلاط میل جول ناجائز ہے خصوصا یوں کہ وہ افسر ہوں یہ ماتحت۔ قال اﷲ تعالٰی:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[1]۔ |
اگر تجھے شیطان کبھی بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔(ت) |
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
فایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں کہیں تمھیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۲)زنانہیں ثابت ہوسکتا جب تك چار مرد عاقل بالغ،ثقہ،متقی،پرہیزگار اپنی آنکھ سے ایسامشاہدہ نہ بیان کریں جیسے سرمہ دانی میں سلائی،بغیر اس کے جو شخص کسی مسلمان کی نسبت زنا کی تہمت رکھے گا بحکم قرآن مجید اسی کوڑوں کا مستحق ہوگا پھر اس کی گواہی ہمیشہ کو مردود،ہاں یہ ضرور ہے کہ اجنبی عورت سے خلوت حرام ہے۔جولوگ انھیں نوکر رکھتے ہیں ضرور مکان میں دونوں تنہا ہوتے ہوں گے،اور اسے شرع نے حرام فرمایا۔
(۳)کہیں تك بھی نہیں،آیت وحدیث میں مطلقًا ممانعت فرمائی،بلکہ حدیث خاص اس قوم کا نام لے کر آئی کہ:
|
یاتی قوم لہم نبز یقال لہم الرافضۃ لایشہدون جمعۃ |
یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:ایك قوم آنے والی ہے ان کا بدلقب ہوگا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع