30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وَمَا تُخْفِیۡ صُدُوۡرُہُمْ اَکْبَرُؕ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْقِلُوۡنَ﴿۱۱۸﴾"[1] |
ظاہر ہورہی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہے بہت زیادہ ہے ہم نے روشن نشانیاں تمھیں بتادیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ |
اس ارشاد الہٰی کے بعدکیا کوئی عاقل دیندار مسلمان ہنود کی شورش میں ان کا ساتھ دینا روا رکھے گا اور وقت پر زبانی باتوں کے دھوکے میں آکر بالآخر ان سے اسلام ومسلمین کے ساتھ نیك برتاؤ اوردلی دوستی کی امیدرکھے گا اس حکومت با اختیار کا حاصل اگر ہندوستان میں صرف اس قدر ہوا کہ اوپر کی کونسلوں میں ہندو ممبر بکثرت کردئے گئے اورامورانتظامیہ کے سوا دیگر احکام میں ان کی رائے سنی گئی اور کثرت پرفیصلہ ہوا جب تو ظاہر کہ ہر طرح ہنود کی جیت ہے انھیں کی کثرت رہے گی اور انھیں کی بات جیسا کہ بعض وقائع مذکورہ سوال اس کا نمونہ ہیں،نیچر کی کمیٹیوں میں ان کے اور تمھارے حالات وعادات جو سنے گئے وہ اور بھی ان کے مؤید ہیں یعنی یہ کہ بہت ہنود نہ فقط اپنے حفظ حقوق بلکہ مسلمانوں کی پامالی حقوق میں بیدریغ کوشش کرتے ہیں،اور بہتیرے مسلمان ممبردم نہیں مارتے بلکہ بعض تو صلح کل وبے تعصب بننے کو الٹا ان کا ساتھ دیتے ہیں مسلمانوں کی تعداد ایك تو کم تھی ہی اور بھی کم رہ جاتے ہیں،آخر بارہا پالی ہنود کے ہاتھ رہتا ہے،اب اس کا اثرجزئیات پر پڑتاہے،اس حالت میں کلیات پر پڑے گا،گورنمنٹ کو مسلمانوں ہندوؤں کے معاملہ میں نہ کسی کی طرفداری نہ کسی سے خصومت،جب ہندوستانی ممبربڑھے اور کثرت ہنود کی ہوئی اب احکام ان رایوں سے فیصل ہوکر آئیں گے جو ایك قوم کی ذاتی طرفداری اور دوسروں کی ذاتی مخالف ہے اس وقت وہ اسی لئے مسلمان کو بلارہے ہیں کہ یوں اختیارات اپنے کرلیں اور انھیں کی کوششوں سے ان کی حقوق پامال کرنے پر خاطر خواہ قادر ہوجائیں گے جب یہ جم گئی پھر کیا ہوتاہے ع
دریغ سودندارد چوکار رفت از دست
(جب کام ہاتھ سے نکل جائے تو پھر پشیمان ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔ت)
ع مرد آخر بین مبارك بندہ است
(نتیجہ کو دیکھنے والا مرد بابرکت آدمی ہے۔ت)
اور اگر بالفرض حکومت خوداختیاری اپنے حقیقی معنی پر ملی تو وقت سخت ترہے غور کرو اس وقت کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع