30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾ "[1] |
اور دل سب سے پرسش ہونی ہے۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث[2] |
بدگمانی سے دور بھاگو بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔ |
(۴)ہر گز تامل جائز نہیں،بارگا ہ عزت وہ بار گاہ کرم ہے کہ ع
باز آباز آہر آنچہ ہستی بازآ گر کافر ورند وبت پرستی باز آ
ایں درکہ مادر گہ ناامیدی نیست صد بار اگر توبہ شکستی بازآ
(جو کچھ بھی تو ہے اس کام سے مکرر سہ کرر رك جا یعنی اسے چھوڑ دے،اگر تو کافر ہے اوباش اور بت کا پجاری ہے تاہم اس کو چھوڑ دے،یہ دروازہ(یعنی اﷲ تعالٰی کی بارگاہ)ہمارے ناامید ہوکر لوٹ جانے کا دروازہ نہیں،اگر تو نے سو مرتبہ بھی توبہ کرکے توڑ دی تو پھر بھی(اس بارگاہ کی طرف)لوٹ آؤ۔ت)
(۵)کافروں کے غلط طعنہ کا لحاظ کرنا اور اس کا خیال نہ کرنا کہ اس مسلمان کی دل شکنی ہوگی کسی ایسے ہی کا کام ہے جو نرا جاہل ہے۔ یا معاذ اﷲ کافروں کی طرف مائل ہے۔
(۶)کفر کی نجاست میں برہمن خاکروب سے نجس تر ہیں مگر ظاہر ی نجاست سے تلوث اس کو زائد رہتاہے ولہذا مسلمانوں میں رائج ہے کہ خاکروب کی چھوئی چیز سے جیسا احترا ز کرتے ہیں برہمن کی چھوئی ہوئی سے نہیں کرتے لیکن یہ اسی وقت ہے جب تك وہ مسلمان نہ ہوا جب اسلام لے آیا اور طہارت کرلی اب وہ اپنا بھائی ہے۔
(۷)یہ شخص اگر خود عالم کامل نہیں تو مستند علمائے دین کے فتوے نہ ماننے کے سبب ضال وگمراہ ہے،قرآن عظیم نے غیر عالم کےلئے یہ حکم دیا کہ عالم سے پوچھو نہ یہ کہ جس پر تمھارا دل گواہی دے عمل کرو۔قال اﷲ تعالٰی:
|
" فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾"[3] |
علم والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں علم نہ ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع