30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۲: مرسلہ صالح محمد خاں سابق مدرس ساکن قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر ۵/ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ کیا حال ہے ایسے شخص کا جو گناہان مندرجہ ذیل کا مرتکب ہوا وہ شخص مسلمان رہا یا نہیں اور نماز اس کے پیچھے جائز ہے یانہیں؟
(۱)ایك شخص نے جان بوجھ کر بسبب دنیوی رنجش کے قصدا فعل حلال شرعی کو حرام کردیا۔
(۲)غیر مقلدین کو جو اپنےکو عامل بالحدیث مشہور کرتے ہیں اور امامان مجتہدین رحمہم اﷲ تعالٰی کو بدعتی اور اصحاب الرائے کہتے ہیں ان کو درباہ شخصے خلاف شرع مدد دی۔
(۳)شرعی معاملہ میں عمدا بحلف جھوٹی شہادت دی۔
(۴)چار مسلمانان اہلسنت وجماعت حنفی مذہب واقف مسائل شرعی کے روبرو شرعی فعل حلال و جائز کو برحق اور سچا تسلیم کرکے پھر اس کلمہ حق سے منحرف ہوکر ناجواز کا قائل ہوا اور یہ شخص پیش امام مسجد بھی ہے آیا نماز اس کے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟ مع دلیل وحوالہ کتاب اﷲ وحدیث رسول اﷲ یاعبارت فقہیہ مرتب فرمایا کر مزین بمہر خاص فرمائیں۔
(۵)اگر قاضی شہر کے علاوہ دوسرا کوئی شخص مطابق شرع شریف نکاح پڑھادے لیکن اندراج اس کا رجسٹر قاضی شہر مذکور میں نہ ہو تو وہ نکاح جائز وصحیح ہے یانہیں؟ جواب مرحمت ہو۔بینوا توجروا(بیان کروتاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ایسے لوگ سخت گنہگار بلکہ گمراہ ہیں کہ حق کے مقابل باطل کی اعانت کرتے ہیں،ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز ہے بلکہ جب تك توبہ نہ کریں مسلمانوں کو ان سے بالکل قطع علاقہ کردینا چاہئے کہ وہ ظالم ہیں اور ظالم بھی کس پر دین پر، اور اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتا ہے:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[1] |
اگر تمھیں شیطان بھلادے تو یا د آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت) |
قاضی کا رجسٹر شرعاکوئی شرط نکاح نہیں،رجسٹر آج سے نکلے ہیں،پہلے نکاح کیونکر ہوتے تھے ہاں یادداشت کے لئے درج ہونا بہتر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع