30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں جبکہ وہ اس عقیدہ میں شریك نہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳: از سنھبل ضلع مراد آباد محلہ ٹیلہ مرسلہ نادر حسین صاحب ۱۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ
زید نے بھنگی کے گھر پر جاکر اس کے گھر کے کھانے پکے ہوئے پر فاتحہ جناب شاہ بدیع الدین یعنی مدار صاحب دے کر کچھ دام اور شیرینی اور خشك آٹا وغیرہ اپنے گھر لاکر استعمال میں لایا اور سالہا سال سے ایسا ہی کیا کرتاہے یعنی وہ اپنا اسے پیر سمجھتے ہیں،اب دریافت طلب امریہ ہے کہ زید کایہ فعل شرعا جائز تھایا ناجائز؟ اگر جائز تھا تو احکام شرعیہ کے کون شے کے جواز سے؟ اور اس کے لائے جنس کا کھانا دوسرے مسلمان کو چاہئے یا نہیں؟ اور اگر ناجائز تھا تو اس کی نسبت کیاحکم؟ مسلمانوں کو اس سے بچنا بہترہے یانہیں؟
الجواب:
زید بیقید کا یہ فعل بہت ناپاك وبد ہے۔یہاں علی العموم بھنگی کفا رہیں،اور کافر کی کوئی نیاز کوئی عمل قبول نہیں،نہ ہر گز اس پر ثواب ممکن جسے پہنچایاجائے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾ "[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے(قرآن مجید میں)ارشاد فرمایا:اور ہم نے ان کاموں کا ارادہ کیا جو انھوں نے(دنیاوی زندگی میں)کئے پھر ہم انھیں بکھرا ہوا گرد وغبار نباکر اڑادیں گے۔(ت) |
ا س کے کھانے پر فاتحہ دینا اس کا ثواب پہنچنے کا اعتقاد ہے اور یہ قرآن عظیم کے خلاف ہے زیر پر توبہ فرض ہے بلکہ تجدید اسلام ونکاح چاہئے،بھنگی کا صدقہ جو یہ شخص لاتااور کھاتا ہے اسلام کو ذلیل اور مسلمانوں کو متنفر کرتاہے مسلمان اسے نہ کھائیں،اوریہ شخص تائب نہ ہو تو اسے بھنگیوں ہی پر چھوڑدیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴: از ڈیسہ اسحاق اﷲ ملك گجرات مرسلہ پیر زادہ محمد معصوم شاہ صاحب ۱۷ جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ
بخدمت جناب مجدد ہند مولانا مولوی صاحب احمد رضا خاں صاحب،بعد تسلیم کے گزارش حال یہ ہے کہ آپ کے نام پیرڈیسہ سے فتوٰی لکھا ہے وہ شخص مولوی اشرفعلی کاپیرو ہے اور یہاں پر چار سو مکان اہلسنت وجماعت کے ہیں ان کو مولوی اشرفعلی کے سپرد کرنا چاہتاہے یعنی ہمارے ہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع