30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فکتب ابو موسٰی الی عمر ان قد حسنت ھیأتہ ان ائذن للناس فی مجالستہ [1] ولابن الابناری ولنصر و اللالکائی وابن عساکر عن السائب بن یزید رضی اﷲ تعالٰی عنہ وذکر القصۃ قال فلم یزل یعنی صبیغا وضیعا فی قومہ حتی ھلك وکان سید قومہ [2]۔ |
ابوموسٰی اشعری کی طرف یہ ہدایت تحریر بھیجی کہ کوئی مسلمان اس شخص کے پاس نہ بیٹھنے پائے،یہ حکم اسے گراں گزرا،کچھ عرصہ بعد ابوموسٰی اشعری نے امیر المومنین کو لکھا کہ اس کی حالت اچھی ہوگئی ہے۔آپ نے انھیں جواب بھیجا کہ اب لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دیں،ابن ابی الابناری نصر مقدسی لالکائی اور ابن عساکر نے حضرت سائب بن یزید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت فرمائی کہ انھوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ پھر ہمیشہ صبیغ اپنی قم(بے قدر)کہتر ہوگیا یہاں تك کہ اسے موت آگئی،باوجود یہ کہ وہ اپنی قوم کا سردار تھا۔(ت) |
پھر صحت توبہ پر اطمینان کتنی مدت میں حاصل ہوتاہے صحیح یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی مدت متعین نہیں کرسکتے جب اس شخص کی حالت کے لحاظ سے اطمینان ہوجائے کہ اب اس کی اصطلاح ہوگئی اس وقت اس سے دو قسم اخیر کے معاملات بر طرف ہوں گے،فتاوٰی امام قاضی خاں پھر فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
الفاسق اذا تاب لاتقبل شہادتہ مالم یمض علیہ زمان یظہر علیہ اثر التوبۃ والصحیح ان ذٰلك مفوض الی رائی القاضی [3]۔ |
بدکردار جب تائب ہوجائے تب بھی اس کی شہادت مقبول نہ ہوگی جب تك کہ کچھ زمانہ بیت جائے تاکہ اس پر توبہ کے آثار ہو جائیں،اور صحیح یہ ہے کہ یہ مسئلہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے۔ (یعنی جب قاضی کو اس سے مکمل اطمینان ہوجائے توپھر شہادت مقبول ہوگی۔مترجم)۔(ت) |
ظاہر ہے کہ یہ بات نظر بحالات مختلف ہوجاتی ہے ایك سادہ دل راست گو سے کوئی گناہ ہوا اس نے توبہ کی اس کے صدقہ پر جلد اطمینان ہوجائے گا اور دروغ گو مکار کی توبہ کااعتبار نہ کریں گے اگر چہ ہزار مجمع میں تائب ہو،امام اجل ملك العلماء ابو بکر مسعود کاشانی قدس سرہ،الربانی بدائع میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع