30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوا میرے سر سے نکل گئی،امیر المومنین نے اسے حاکم یمن حضرت ابوموسٰی اشعری رضی ااﷲ تعالٰی عنہ کے پاس بھیج دیا اور حکم فرمایا کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے وہ جدھر گزرتا اگر سو آدمی بیٹھے ہوتے سب متفرق ہوجاتے یہاں تك کہ ابوموسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرضی بھیجی کہ یا امیر المومنین! اب اس کا حال صلاح پر ہے اس وقت مسلمانوں کو ان کے پاس بیٹھنے کی اجازت فرمائی،دارمی سنن اور نصر مقدسی وابوالقاسم اصبہانی دونوں کتاب الحجہ ابن الابناری کتاب المصارف اور لالکائی کتاب السنۃ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں سلیمان بن یسار سے راوی:
|
رجل من بنی تمیم یقال لہ صبیغ بن عسل قدم المدینۃ وکان عندہ کتب فکان یسأل عن متشابہ القراٰن فبلغ ذٰلك عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فبعث الیہ وقد اعدلہ عراجین النحل فلما دخل علیہ قال من انت قال انا عبداﷲ صبیغ قال عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وانا عبداﷲ عمر واوما الیہ فجعل یضربہ بتلك العراجین فما زال بضربہ حتی فما زال یضربہ حتی شجہ وجعل الدم یسیل علی وجہہ فقال حسبك یا امیر المومنین واﷲ فقد ذھب الذی اجد فی رأسی [1]۔ |
قبیلہ بنی تمیم کا ایك شخص جس کو"صبیغ بن عسل"کہا جاتاتھا مدینہ منورہ آیا اس کے پاس کچھ کتابیں تھیں اور قرآن مجید کے متشابہات کے بارے میں پوچھتا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ تك یہ بات پہنچی تو آپ نے ایك آدمی بھیج کر اسے اپنے ہاں بلالیا اور اس کے لئے کھجوروں کی چند بڑی ٹہنیاں تیار رکھیں جب وہ امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا،میں عبداﷲ صبیغ ہوں،حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:میں اﷲ تعالٰی کا بندہ عمر ہوں،پھر اس کی طرف بڑھے اور ان ٹہنیوں سے اسے مارنے لگے اسے مسلسل مارتے رہے یہاں تك کہ وہ زخمی ہوگیا اور اس کے چہرے پر خون بہنے لگا، اس نے کہا بس بھی کریں کافی ہوگیا ہے امیر المومنین ! خد ا کی قسم میں اپنے دماغ میں جو کچھ پاتا تھا وہ نکل گیا ہے یعنی ختم |
[1] تنہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ صبیغ بن عسل داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۳۸۷،سنن الدارمی حدیث ۱۴۶ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱ /۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع