30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المشاکلۃ [1]اھ مختصرًا۔ |
میں رعایت مقابلہ وتحقق مشاکلت ہو(مختصرا عبارت مکمل ہوئی)۔(ت) |
سو کے سامنے گناہ کیا اور ایك گوشہ میں دو کے آگے اظہار توبہ کردیا تو اس کا اشتہار مثل اشتہار گناہ نہ ہو اور وہ فوائد کہ مطلوب تھے پورے نہ ہوئے بلکہ حقیقۃ وہ مرض کہ باعث اعلان تھا توبہ میں کمی اعلان پر بھی وہی باعث ہے کہ گناہ تو دل کھول کر مجمع کثیر میں کرلیا اور اپنی خطا پر اقرار کرتے عار آتی ہے چپکے سے دو تین کے سامنے کہہ لیا وہ انکساری کہ مطلوب شرع تھا حاصل ہونا درکنار ہنوز خود داری واستنکاف باقی ہے اورجب واقع ایسا ہو تو حاشا توبہ سر کی بھی خبر نہیں کہ وہ ندامت صادقہ چاہتی ہے اور اس کا خلوص مانع استنکاف،پھر انصاف کیجئے تو اس کا یہ کہنا کہ میں نے توبہ کرلی ہے اور اس مجمع میں توبہ نہ کرنا خود بھی اسی خود داری واستنکاف کی خبر دے رہا ہے ورنہ گزشتہ توبہ کا قصہ پیش کرنا گواہوں کے نام گنانا ان سے تحقیقات پر موقوف رکھنا مگر یہ جھگڑا آسان تھا یا مسلمانوں کے سامنے یہ دو حروف کہہ لینا کہ الہٰی! میں نے اپنے ان ناپاك اقوال سے توبہ کی،پھر یہاں ایك نکتہ اور ہے اس کے ساتھ بندوں کے معاملے تین قسم ہیںِ ایك یہ کہ گناہ کی اس کی سزا دی جائے اس پر یہاں قدرت کہاں،دوسرے یہ کہ اس کے ارتباط واختلاط سے تحفظ وتحرز نہ کیا جائے کہ بد مذہب کا ضرر سخت معتذر ہوتاہے،تیسرے یہ کہ اس کی تعظیم وتکریم مثل قبول شہادت و اقتدائے نماز وغیرہ سے احتراز کریں،فاسق و بدمذہب کے اظہار توبہ کرنے سے قسم اول تو فورا موقوف ہوجاتی ہے الا فی بعض صورت مستثنیات مذکورۃ فی الدر وغیرہ(مگر بعض ان صورتوں میں جو درمختاروغیرہ میں مذکور ہیں۔ت)مگر دو قسم باقی ہنوز باقی رہتی ہیں یہاں تك کہ اس کی صلاح حال ظاہر ہو اور مسلمان اس کے صدق توبہ پر اطمنان حاصل ہو اس لیے کہ بہت عیار اپنے بچاؤ اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے زبانی توبہ کرلیتے ہیں اور قلب میں وہی فساد بھرا ہواہے۔عراق میں ایك شخص صبیغ بن عسل تمیمی کے سر میں کچھ خیالات بد مذہبی گھومنے لگے،امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حضور عرضی حاضر کی گئی طلبی کاحکم صادر فرمایا وہ حاضر ہوا امیر المومنین نے کھجور کی شاخیں جمع کر رکھیں اور اسے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا فرمایا تو کون ہے؟ کہا میں عبداﷲ صبیغ ہوں،فرمایا اور میں عبداﷲ عمر ہوں اور ان شاخوں سے مارنا شروع کیا کہ خون بہنے لگا پھر قید خانے بھیج دی،جب زخم اچھے ہوئے پھر بلایا اور ویسا ہی مارا پھر قید کردیا سہ بارہ پھر ایسا ہی کیا یہاں تك کہ وہ بولا یا امیر المومنین! واﷲ اب وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع