30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
پہنچی ہوئی ہیں۔(ت) |
خصوصا کسی کے نام کی چوٹی کہ رسول کفار ہنود سے ہے یوہیں ڈوری بدھی کلاوہ بھی محض جہالت و بے اصل ہے۔پنڈا بھرنا، قندوری بھرنا،تاتامیری زبان کے الفاظ نہیں،نہ مجھے ان کے معانی معلوم۔یہ بھی اگر بدھی چوٹی وغیرہ کے مثل ہوں تو ان کا بھی وہی حکم ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵: از چاٹگام موضع قلاد جان مرسلہ نظام الدین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۲۳ھ
|
چہ می فرمایند علماء دین رحمہکم اﷲ تعالٰی اندریں مسئلہ کہ زید و عمرو ہر دو عالم اندہرگاہ قطعہ فرائض بعبارت صحیحہ ومسئلہ صریحہ پیش ایشاں وقوع آمد پس زید بربنائے نفاق وعداوت دنیاوی گفتہ کہ اکثر جائے فرائض غلط کردہ ودستخط بہ صحیح مسئلہ آں ممنوع وعمر و او لا فرائض موصوفہ بغو رنظر دیدہ دستخط بداں برتصحیح مسئلہ آں کردہ اند باز از زبانی زید غلط عبارتش شنیدہ ودستخط خود ازوے منقطع کردہ اند ہر دو عالم موصوف، باوجود یکہ حضرات متدینین ادام اﷲ فیوضہم آنرا تحقیق کردہ صحیح فرمودہ اند عبارتش رامغلطہ گویند،دستخط بداں غیر مشروع پندارند پس دریں واقعہ دماغ وغروری منسوب شوند یا نہ و آنا نکہ صحیح وجائز راناجائز وحلال راحرام بربنائے دماغ وغروری میدانندکافر گرد د یا بارتکاب کبیرہ بینوا توجروا۔ |
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں(اے علم والو! اﷲ تعالٰی تم پر رحم فرمائے)زید اور عمرو دونوں عالم ہیں ان دونوں کے سامنے قطعہ فرائض عبارت صحیحہ اور مسئلہ صریحہ کے ساتھ پیش کیا گیا تو زید نے نفاق اور دنیوی عداوت کی بناپر کہہ دیا کہ فرائض کے زیادہ تر مقامات میں غلطی کی گئی ہے لہذا اس مسئلے کی صحت پر دستخط کرنا جائز نہیںَ عمرو نے پہلے فرائض موصوفہ کو غور وفکر سے دیکھا پھر اس مسئلہ کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے دستخط کردئے،ازاں بعد زید کی زبانی اس کی غلط عبارت سنی تو دونوں موصوف عالموں نے اس سے اپنے اپنے دستخط مٹا دئے گر چہ دیندار حضرات(اﷲ تعالٰی ان کے فیوض و برکات ہمیشہ پھیلائے)نے اس کی تحقیق کے بعد اس کی تصحیح فرمائی کیونکہ یہ دونوں اس کے عبارت کو غلط کہہ کر اس پر دستخط کو ناجائز سمجھے پس کیا اس واقعہ میں وہ لوگ عالی دماغ اور تکبر کی طرف منسوب ہوں گے؟ اور جو لوگ علودماغ اور تکبر کی بناء پر صحیح اور جائز کو ناجائز اورحلال کو حرام جانیں کافر قرار پائیں گے یا کبیرہ گناہ کے مرتکب؟ بیان فرما کر اجر وثواب کے مستحق ہوں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع