30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متون عقائد میں ہے:
|
الکبیرۃ لاتخریج العبد المومن من الایمان ولا تدخلہ فی الکفر [1]۔ |
کوئی گناہ کبیرہ بندہ مومن کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل نہیں کرتا۔(ت) |
نذر ونیاز کہ مسلمین بقصد ایصال بارواح طیبہ حضرات اولیاء کرام نفعنا اﷲ تعالٰی ببرکاتھم(اﷲ تعالٰی ہمیں ان کی برکتوں سے مستفید فرمائے۔ت)کرتے ہیں ہر گز قصد عبادت نہیں رکھتے نہ انھیں معبود والہ و مستحق عبادت جانتے ہیں،نہ یہ نذر شرعی ہے بلکہ اصطلاح عرفی ہے کہ سلاطین وعظماء کے حضور جو چیز پیش کی جائے اسے نذور نیاز کہتے ہیں اور نیاز تو اس سے بھی عام تر ہے۔عام محاورہ ہے کہ مجھے فلاں صاحب سے نیاز نہیں،میں تو آپ کا نیاز مند ہوں،فقیر نے اپنے فتاوی میں ان اطلاقت کی بحث شافی لکھی ہے اور خود بھی کبائر مانعین سے ان کا اطلاق ثابت کیا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناء عشریہ میں فرماتے ہیں:
|
حضرت امیر وذریہ طاہرہ اوراتمام امت برمثال پیراں و مرشداں می پیرستند وامور تکوینیہ رابایشاں وابستہ م ی وانند و فاتحہ ودرود وصدقات ونذر بنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء ہمیں معاملہ است [2]۔ |
جناب امیر اور ان کی پاکیزہ اولاد کو تمام امت کے لوگ عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورتکوینی معاملات کو ان سے وابستہ خیال کرتے ہیں اسی لئے فاتحہ درود وصدقات خیرات اور نذر ونیاذ کی کارگزاریاں لوگوں میں ان کے نام کے ساتھ رائج اور معمول بن گئی ہیں جیسا کہ دیگراولیاء کرام کے معاملے میں یہی صورت حال ہے۔(ت) |
محبوبان خدا کی طرف تقرب مطلقًا ممنوع نہیں جب تك بروجہ عبادت نہ ہو،تقرب نزدیکی چاہنے رضامندی تلاش کرنے کو کہتے ہیں اور محبوبات بارگاہ عزت مقربان حضرت صمدیت علیہم الصلٰوۃ والسلام کی نزدیکی ورضا ہر مسلمان کو مطلوب ہے اور وہ افعال کہ اس کے اسباب ہوں بجالانا ضرور محبوب،کہ ان کا قرب بعینہٖ قرب خدا اور ان کی رضا اﷲ کی رضا ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" اللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤْمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾ "[3]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:ایمان والوں کے لئے اﷲ تعالٰی اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں راضی کیا جائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع