30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق رواہ ابو الشیخ فی التوبیخ [1]عن جابر بن عبداﷲ الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
ان کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گا مگر کھلا منافق(اسے ابوالشیخ نے التوبیخ میں حضرت جابر بن عبداﷲ انصارٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
لیس من امتی من لم یعرف لعالمناحقہ۔رواہ احمد [2]والحاکم والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں۔(اسے احمد،حاکم اور طبرانی نے کبیر میں عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
پھر اگر عالم کو اس لئے برا کہتاہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتاہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتاہے گالی دیتاتحقیر کرتاہے تو سخت فاسق فاجر ہے اگر بے سبب رنج رکھتاہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ خلاصہ میں ہے:
|
من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر [3]۔ |
جو کسی عالم سے بغیر سبب ظاہری کے عداوت رکھتاہے اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔(ت) |
منح الروض الازہر میں ہے۔الظاھر انہ یکفر[4] (ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا۔ت)
|
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا علام ہے اور اس عزت ووقیر والے کا علم بڑا کامل اور بہت پختہ(محکم)ہے۔(ت) |
[1] کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ حدیث ۴۳۸۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۳۲
[2] مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبادہ ابن صامت دارالفکر بیروت ۵ /۳۲۳
[3] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی الجنس الثامن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۸
[4] منح الروض الازھر شرح الفقۃ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع