30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے اوپر حکم کفرجاری ہوگا یانہیں؟ اور اکثر عوام الناس اس زمانے میں عالموں کو گالی دیتے اور حقارت اور غیبت کرتے ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
غیبت تو جاہل کی بھی سوا صور مخصوصہ کے حرم قطعی وگناہ کبیرہ ہے۔قرآن عظیم میں اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا فرمایا۔ حدیث میں آیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم والغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قد یزنی ویتوب اﷲ علیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفر لہ حتی یغفرلہ صاحبہ،رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ [1]وابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ وابی یوسف الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ |
غیبت سے بچو کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زانی توبہ کرے تو اﷲ تعالٰی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی بخشش ہی نہ ہوگی جب تےك وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی تھی(اس کو ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ابو الشیخ نے توبیخ میں جابر بن عبداﷲ اور ابوسعید خدری سے روایت کیا اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو۔(ت) |
یوہیں بلا وجہ شرعی کسی مسلمان جاہل کی بھی تحقیر حرام قطعی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
یحسب امری من الشران یحقرا خاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ،رواہ مسلم [2] عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کی تحقیر کرے مسلمان کی ہر چیز مسلمان پر حرام ہے خون آبرو مال(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
اسی طرح کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دیناحرام قطعی ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع