30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واگر فر کنیم غایت آنکہ ہمیں مشرك نباشد اما ادر کفر ایشاں چہ جائے سخن ہر کہ بامحمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نگردہ کافر ست دہر کہ را کافر نداند خود باوہمسر ست قال اﷲ تعالٰی " وَمَنۡ یَّبْتَغِ غَیۡرَ الۡاِسْلٰمِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقْبَلَ مِنْہُۚ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ﴿۸۵﴾ "[1]اگر دوستی ومولات با ہرکافر کہ باشد حرام اشد وکبیرہ اعظم ست واگربربنائے میل دینی باشد خود کفر قال اﷲ تعالٰی " وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ؕ " [2] وصحبت و مخالطت بے دوستی وموانست اگر درکار دنیوی بر بنائے ضرورت بقدر ضرورت بے تعظیم وتکریم وبے مداہنت درکار دین باشد رخصت ست ورنہ اینہم حرام مگر بحالت اکراہ شرعی قال اﷲ تعالٰی " فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[3]۔وقال تعالٰی اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمٰنِ"[4]۔و درشرینی ساختہ ایشاں تاآنکہ بالخصوص دروخلط نجاستے یا چیزے حرام معلوم بناشد فتوی جواز ست وتقوٰی احتراز کماا نص علیہ فی الاحتساب ودرفاتحہ از واحتر از نسب ست فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب [5]وطیب بودن اشیائے |
روح دونوں کہ اﷲ تعالٰی کی طرح قدیم اور غیر مخلوق مانتے ہیں اور کہتے ہیں۔پس اگرعبادت میں شرك نہ ہوا تو وجوب وجود میں شرك ہوگیا پس ہر وجہ سے ان پر تین خدا لازم ہوگئے لہذا وہ یقینا مشرك ہیں،ان کا دعوٰی توحید ہوا میں پاؤں رکھنے کے مترادف ہے۔اگر ہم آخری درجہ پر فرض کرلیں کہ ہوہ مشرك نہیں تاہم ان کے کفر یعنی کافر ہونے میں بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے کہ جو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ نہ ہو وہ کافر ہے اور جو انھیں کافر نہ جانے وہ خود کفر میں ان کے ساتھ برابر ہے،چنانچہ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے(اور اس کا طلب گار ہو)تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائےگا۔بلکہ وہ دار آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا،لہذا ہر کافر سے دوستی اور ملاپ سخت منع حرام اور بہت بڑا گناہ ہے اور اگر دینی رجحان کی بناء پر ہو تو بلا شبہ کفر ہے۔چنانچہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے:جو کوئی تم میں سے ان(کافروں)سے دوستی رکھے گا تو بلا شبہ وہ انہی میں سے ہے۔اور اگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع