30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واپس کردے یا معاف کرائے،پتا نہ چلے توا تنا مال تصدق کردے اور دل میں نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگرتصدق پرراضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انھیں پھیردوں گا۔ شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
قدنصوا علی ان ارکان التوبۃ ثلثۃ الندامۃ علی الماضی والا قلاع فی الحال والعزم علی عدم العود فی الاستقبال ھذا ان کانت التوبۃ فیما بینہ وبین اﷲ کشرب الخمر واما ان کانت ھما فرط فیہ من حقوق اﷲ کصلٰوۃ و صیام وزکوٰۃ فتوبتہ ان یندم علی تفریطہ اولا ثم یعزم علی ان لایعود ابداء ولو بتاخیر صلاۃ عن وقتہا ثم یقضی مافاتہ جمیعا وان کانت مما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فتتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقدمناہ فی حقوق اﷲ تعالٰی علی الخروج عن عہدۃ الاموال وارجاء الخصم بان یتحلل عنہم ایردھا الیہم اوالی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث وفی القنیۃ رجل علیہ دیون لاناس لایعرفہم من غصوب اومظالم اوجنایات یتصدق |
اہل علم نے تصریح فرمائی ہیے کہ توبہ کے ارکان تین ہیں(۱) گزشتہ جرم پر ندامت یعنی نادم وشرمسار ہونا(۲)موجودہ طرز عمل کو درست رکھنا اور گناہ کا ازالہ وبیخ کنی کرنا(۳)آئند کے لئے گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا،یہ اس وقت کا کام ہے جبکہ توبہ بندے اور اﷲ تعالٰی کے درمیان ہو،جیسے شراب نوشی،لیکن اگر اس نے حقوق اﷲ میں کوتاہی کی اور ان سے توبہ کرنا چاہے جیسے نماز،روزے اور زکوٰۃ وغیرہ کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی کی تو اس کے لئے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کو تاہی پر نادم ہو پھر پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ ان کی ادائیگی میں غفلت سے کام نہیں لے گا اور انھیں ہر گز ضائع نہیں کرے گا،پھر تمام ضائع کردہ حقوق کی قضا کرے اور اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحت تو بہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوق اﷲ کے ضمن میں بیان کردیا ہے کہ اس کی صورت میں اموال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضروری ہے جن کا مال غصب کیا گیا،وہ انھیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ افراد موجود اوربقید حیات نہ ہوں تو ان کے ورثاء متعلقین اور قائم مقام افراد و وکلاء کے ذریعے اموال کی واپسی او ر معافی عمل میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع