30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بغرض تقرب روپیہ اٹھارکھا اسی مبلغ منذور سے بایں نیت اسباب اکل وشرب خریدا کہ خاص دن جس میں نذر ادا کی جاتی ہے۔ دعوت کھلائی جائے جب وہ دن آن پہنچا تو وہ ہندو اہل اسلام سے کہنے لگا کہ میری نیت ہےکہ میں تمام اہل اسلام کو ﷲ اس مال مذکورسے کھلاؤں اسی موجب اس ہندو نے مسلمانوں کو بکرے چاول وغیرہا دئے،بروقت دینے کے مکر رسہ کرر ﷲ دیتاہو کہا بعض مسلمانوں نے وہ مال منذور قبول کرلیا آپس میں پکا کر دعوتیں کیں بعض لوگ باز رہے لہذا باہمی اختلاف واقع ہوا ہے آپ ﷲ جواب سے سرفراز فرمائیں،آیا اس کافر کا قول"جو ﷲ دیتاہوں"کہا معتبر ہے یانہیں۔کھانا درست ہوگا یا نہیں؟ در صورت ثانی جو لوگ کھا چکے ہیں وہ لوگ کس امر کے مرتکب ہوئے؟ مفصل تحریر ہو۔بینوبالکتاب توجروا بالثواب(کتاب اﷲ کے حوالے سے بیان کرو تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
کافر مشرك کا کوئی عمل ﷲ نہیں فان الکفر ھو الجہل باﷲ فاذا جہلہ فکیف یعمل لہ(چونکہ اﷲ تعالٰی کو نہ جاننا کفر ہے پھر جب یہ اس کو نہیں جانتا(یعنی اس کے معاملے میں جہالت کا برتاؤ کرتاہے تو اس کے لئے عمل کیسے کرسکتاہے۔ت)مسلمان مال مذکور (نامکمل)
مسئلہ ۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل اسلام میں سے کوئی شخص بغرض تماشہ دیکھنے کے کسی میلے اہل ہنود کے میں قصدا جائے تو اس کی عورت نکاح سے باہرہوجاتی ہے یا نہیں۔اگر چہ وہ شخص یہ تو جانتاہے کہ ہنود کے میلے میں جانا گناہ ہے اور اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے جو کسی رئیس قوم ہنود کا ملازم ہے وہ بوجہ ملازمت کے اپنے آقا کے ساتھ مجبورا جائے۔ بینوا توجروا
الجواب:
کافروں کے میلے میں جانے سے آدمی کافرنہیں ہوتا کہ عورت نکاح سے نکل جائے،جو لوگ ایسے فتوے دیتے ہیں شریعت مطہرہ پر افتراء کرتے ہیں،البتہ اس میں شریك ہونا مسلمان کو منع ہے۔ حدیث میں ہے:
|
من کثرسواد قوم فہو منہم [1]۔ |
جس شخص نے کسی قوم کی جماعتی تعداد میں اضافہ کیا تو وہ انہی میں سے ہے۔(ت) |
دوسری حدیث میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع