30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
طابۃ۔رواہ الائمۃ احمد ومسلم[1] والنسائی عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
طابہ رکھا۔(اسے ائمہ احمد،مسلم اور نسائی نے جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
مرقاۃ میں ہے:
|
المعنی ان اﷲ تعالٰی سماھا فی اللوح المحفوظ او امرنبیہ ان یسمیھا بہا ردا علی المنافقین فی تسمیتھا بیثرب ایماء الی تثریبہم فی الرجوع الیہا [2]۔ |
مفہوم یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے لوح محفوظ میں مدینہ منورہ کانام"طابہ"رکھا ہے یا اپنے محبوب نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ مدینہ پاك کا نام طابہ رکھیں، یثرب رکھنے میں اہل نفاق کارد کرتے ہوئے ان کی سرزنش (توبیخ)کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے پھر نازیبا (یامتروک)نام کی طرف رجوع کرلیا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال النووی رحمہ اﷲ تعالٰی قد حکی عیسٰی بن دینار ان من سماھا یثرب کتب علیہ خطیئۃ واما تسمیتھا فی القراٰن بیثرب فہی حکایۃ قول المنافقین الذین فی قلوبہم مرض [3]۔ |
امام نووی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا عیسٰی بن دینار رحمۃ اﷲ علیہ سے حکایت کی گئی ہے کہ جس کسی نے مدینہ طیبہ کا نام یثرب رکھا یعنی اس نام سے پکارا تو وہ گناہ گار ہوگا،جہاں تك قران مجید میں یثرب نام کے ذکر کا تعلق ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ منافقین کے قول کی حکایت ہے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے۔(ت) |
بعض اشعار اکابرمیں کہ یہ لفظ واقع ہوا،ان کی طرف سے عذر یہی ہے کہ اس وقت اس حدیث وحکم پر اطلاع نہ پائی تھی جو مطلع ہوکر کہے اس کے لئے عذر نہیں معہذا شرع مطہر شعر وغیرہ شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع