30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العبارۃ الصحیحۃ یحبنی ثم الظاھر ان تکون العبارۃ بواؤالعطف کقولہ احبہ ویحبنی فیکون الحکم لاجل قولہ یعشقنی والا فلا یظہر لہ وجہ بمجرد قولہ اعشقہ فقد قال العلامۃ احمد بن محمد بن المنیر الاسکندری فی الانتصاف ردا علی الزمخشری تحت قولہ تعالٰی فی سورۃ المائدۃ یحبہم ویحبونہ بعد اثبات ان محبۃ العبد اﷲ تعالٰی غیر الطاعۃ وانہا ثابتۃ واقعۃ بالمعنی الحقیقی اللغوی مانصہ ثم اذا ثبت اجراء محبۃ العبد ﷲ تعالٰی علی حقیقتہا لغۃ فالمحبۃ فی اللغۃ اذا تاکدت سمیت عشقا فمن تاکدت محبتہ ﷲ تعالٰی وظھرت آثارتأکدھا علیہ من استیعاب الاوقات فی ذکرہ وطاعتہ فلا یمنع ان تسمی محبتہ عشقا اذ العشق لیس الا المحبۃ البالغۃ [1]اھ لکن الذی فی نسختی الانوار ونسختین عندی من الاعلام انما ھو بأو فلیستأمل ولیحرر ثم اقول لست بغافل عما اخرج واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
اس قول کو نہیں دیکھتے کہ صحیح عبارت"یحبنی"ہے پھر ظاہرہے کہ عبارت واؤ عاطفہ کے ساتھ ہے جیسے اس کا قول ہے اُحِبُّہ،وَیُحِبُّنِی یعنی میں اس سے محبت رکھتاہوں اور وہ مجھ سے محبت رکھتاہے پھر حکم اس کے یعشقنی کہنے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے صرف اعشقہ کہنے سے کوئی امتناعی وجہ ظاہر نہیں ہوتی۔چنانچہ علامہ احمد بن محمد منیر اسکندری نے "الانتصاف"میں علامہ زمحشری کی تردید کرتے ہوئے فرمایا جو اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کے ذیل میں جو سورۃ مائدہ میں مذکور ہے:" یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ "،(اﷲ تعالٰی ان سے محبت رکھتاہے اور وہ اس سے محبت رکھتے ہیں)اس بات کو ثابت کرنے کے بعد کہ بندے کا اﷲ تعالٰی سے محبت کرنا اس کی اطاعت(فرمانبرداری)سے جدا ہے(الگ ہے)اور محبت معنی حقیقی لغوی کے طور پر ثابت اورواقع ہے(جیسا کہ) موصوف نے تصریح فرمائی پھر جب بندے کا اﷲ تعالٰی سے محبت کرنے کا اجراء حقیقت لغوی کے طریقہ سے ثابت ہوگیا اور محبت بمعنی لغوی جب پختہ اور مؤکد ہوجائے تو اسی کو عشق کا نام دیاجایاتاہے پھر جس کی اﷲ تعالٰی سے پختہ محبت ہوجائے اور اس پر پختگی محبت کے آثار ظاہر ہوجائیں(نظر آنے لگیں) کہ وہ ہمہ اوقات اﷲ تعالٰی کے ذکر وفکر اور اس کی اطاعت میں مصروف رہے تو پھر کوئی مانع نہیں کہ اس کی محبت کو عشق کہا جائے۔کیونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع