30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۵: از امروہہ مرسلہ مولوی سید محمد شاہ صاحب میلاد خواں ۲۲ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:بینوا توجروا(بیان کرواور اجر پاؤ۔ت)
مسئلہ ۵ اُولٰی:
اﷲ تعالٰی کو عاشق اور حضور پرنور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا معشوق کہنا جائزہے یانہیں؟
الجواب:
ناجائز ہے کہ معنی عشق اﷲ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے۔اور ایسا لفظ بے ورودثبوت شرعی حضرت عزت کی شان میں بولنا ممنوع قطعی۔ردالمحتارمیں ہے:
|
مجردایھام المعنی المحال کافٍ فی المنع [1]۔ |
صرف معنی محال کا وہم ممانعت کے لئے کافی ہے۔(ت) |
امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی کتا ب الانوار لاعمال الابرار میں اپنے اور شیخین مذہب امام رافعی وہ ہمارے علماء حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نقل فرماتے ہیں:
|
لوقال انا اعشق اﷲ اویعشقنی فبتدع و العبارۃ الصحیحۃ ان یقول احبہ و یحبنی کقولہ تعالٰی " یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ "[2]۔ |
اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ تعالٰی سے عشق رکھتاہوں اور وہ مجھ سے عشق رکھتاہے تو وہ بدعتی ہے لہذا عبارت صحیح یہ ہے کہ وہ یوں کہےکہ میں اﷲ تعالٰی سے محبت کرتاہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتاہے اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی طرح"اﷲ تعالٰی ان سے محبت رکھتاہے اور وہ لوگ اﷲ تعالٰی سے محبت رکھتے ہیں"۔ (ت) |
اسی طرح امام ابن حجر مکی قدسی سرہ الملکی نے اعلام میں نقل فرما کر مقر رکھا۔
|
اقول:وظاھر ان منشاء الحکم لفظ یعشقنی دون ادعائہ لنفسہ الاتری الی قولہ ان |
اقول:(میں کہتاہوں)ظاہر یہ ہے کہ منشائے حکم لفظ"یعشقی" ہے نہ کہ وہ لفظ جس میں اپنی ذات کے لئے دعوٰی عشق کیا گیا ہے کیا تم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع