30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ رہیں یا بے وارث مرجائیں تو ان کی طرف سے تصدق کردے اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ صدقہ مقبولہ ہے یا ارادہ خود میں صرف کرنا ٹھہرے گا یا اس پر انفاق فی سبیل اﷲ کا ثواب پائے گا بلکہ وجہ یہ ہے کہ جب اس میں تصرف حرام ہو اور مالك تك پہنچانہیں سکتا نا چار اس کی نیت سے فقیر کو دے دے کہ اﷲ جلالہ،کے پاس امانت رہے اور وہ روز قیامت مالك کو پہنچادے۔
|
فی اخر متفرقات الغصب من الہندیۃ عن الغایۃ رجل لہ خصم فمات ولاوارث لہ یتصدق عن صاحب الحق المیت بمقدار ذٰلك لیکون ودیعۃ عنداﷲ تعالٰی فیوصل الی خصمائہ یوم القیمۃ [1]۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں متفرق مسائل غصب کے آخر میں الغایہ سے منقول ہے ایك شخص کا فریق مخالف مرگیا کہ جس کا کوئی وارث نہیں،یہ شخص صاحب حق میت کی طرف سے(جتنا مال میت کا اس کے پاس موجود ہے)اتنی مقدار خیرات کر دے تاکہ یہ خیرات کردہ مال اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں بطور امانت رہے تاکہ قیامت کے دن اﷲ تعالٰی اس کے مخالف تمام مدعیوں کو وہ مال پہنچادے۔(ت) |
بالجملہ زید کی جہالت وضلالت میں شك نہیں اور اس کا دعوٰی کہ میں نے بعض کتابوں میں ایسا ہی دیکھا ہے۔یا تو محض حکایت بے محکی عنہ ہے یا کسی ایسے ہی سفیہ جاہل خواہ ضال مضل نے کہیں لکھ دیا ہوگا اور اگر فقہائے کرام کے ارشاد سنئے،تو زید کے لئے حکم نہایت سخت وجگر شگاف نکلتاہے۔اس کا کہنا کہ حضور میں یہ نیاز قبول ہوتی ہے بعینہٖ یہ کہنا ہے کہ حق سبحانہ وتعالٰی اس پر ثواب دیتاہے کہ نیاز کاحاصل نہیں مگر یہ کہ لوجہ اﷲ تصدق کریں اور اس کا ثواب کسی محبوب خدا کی نذر ہو ورنہ یہ عین طعام ولباس وہاں نہیں پہنچتے۔
|
نظیر ذٰلك قولہ تعالٰی لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ"[2] |
اس کی مثال اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:اﷲ تعالٰی کی بارگاہ تك قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ اس تك تمھارا تقوٰی پہنچتا ہے۔(ت) |
خود قریات وطاعات میں قبول ووصول ثواب کا ایك حاصل۔ردالمحتارمیں ہے:
|
القبول ترتب الغرض المطلوب من الشیئ |
قبول کہتے ہیں کسی شے کی غرض مطلوب کا کسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع