30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واخرج ابوداؤد فی المراسیل عن القاسم عن مخیمرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اکتسب ما لا من ماثم فوصلی بہ رحما اوتصدق بہ اوانفقہ فی سبیل اﷲ جمع ذٰلك جمیعا فقذف بہ فی جہنم [1]۔ |
(ابوداؤد نے مراسیل میں بواسطہ قاسم عن مخیمرۃ سے تخریج کی کہ انھوں نے فرمایا۔ت)یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو گناہ کی وجہ سے مال کما کر اس سے صلہ رحم یا تصدق یا راہ خدا میں خرچ کرے یہ سب جمع کرکے اسے جہنم میں پھینك دیا جائے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ |
سبحٰن اﷲ ! مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تویہ قاہر تصریحیں،اور بیباك لوگ حضور پر تہمت رکھیں کہ ناپاك مال بھی سرکار میں قبول ہوجاتاہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اے عزیز! جو چیز خدا کی بارگاہ سے مردود اور اس کی ناراضی سے آلودہ ہے کیونکر ممکن کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دربار میں رضاو قبول سے مشرف ہو بلکہ درحقیقت زید کی یہ جرأت سرکار رسالت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ میں گستاخی واہانت کہ معاذاﷲ انھیں ناپاك چیزوں کا پسند وقبول کرنے والا بتاتا ہے۔ہیہات ہیہات واﷲ وہ تمام عالم سے زیادہ ستھرے ہیں او ر ستھروں کے لائق نہیں مگر ستھری چیز،گندی چیزیں گندوں کے سزا وار ہیں،
|
قال اﷲ تعالٰی عزوجل: " اَلْخَبِیۡثٰتُ لِلْخَبِیۡثِیۡنَ وَ الْخَبِیۡثُوۡنَ لِلْخَبِیۡثٰتِۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَ الطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ ؕ"[2]۔ |
گندیاں گندوں کے لئے اور گندے گندیوں کو اور ستھریاں ستھروں کو اور ستھرے ستھریوں کو وہ بری ہیں ان باتوں سے جو لوگ کہتے ہیں۔ |
انھیں میں یہ بات بھی ہے کہ وہاں ناپاك مال مقبول ہو۔وہ طیب طاہر اس خبیث قول سے بری ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اور گھاس کے پٹھی وغیرہ کی مثال محض حماقت کہ مباح وحرام میں کیا مناسبت،لہذا امرائے دنیا بہتیرے خون آلودہ ہزاراں خباثات ہوتے ہیں انھیں تاجدار یطھرکم تطھیرا سے کیا نسبت۔صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ٹھیك مثال یوں ہے کہ جشن سلطانی میں کوئی احمق بیباك نذر شاہی کو پیشاب کا قارورہ لے جائے پھر دیکھے کہ مقبول ہوتاہے یا اس مردك کے منہ پر مارا جاتا ہے۔اور وہ جو علماء فرماتے ہیں کہ جس کے پاس مال حرام ہو اور مالك معلوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع