30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم لایغبطن جامع المال من غیر حلہ اوقال من غیر حقہ فانہ ان تصدق لم یقبل منہ ومابقی کان زادہ الی النار [1]قال الحاکم صحیح الاسناد ولم یصب ففیہ حنش متروك لکن لہ شاہد عند البیہقی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
واخرج ابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحہما و الحاکم فی المستدرك من طریق دراج عن ابی حجیرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من جمع مالاحراماثم تصدق بہ لم یکن لہ فیہ اجر و کان اصرہ علیہ [2]۔
اخرجہ الطبرانی من ابی الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ سلم من کسب مالا من حرام فاعتق منہ ووصل منہ رحمہ کان ذٰلك اصرہ علیہ [3]۔ |
انھوں نے فرمایا)یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے جو غیر حلال سے جمع کرے اس پر کوئی رشك نہ لی جائے اگر وہ اس سے خیرات کرے گا تو قبول نہ ہوگی اور جو بچ رہے گا وہ اس کا توشہ ہوگا جہنم کی طرف۔(حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس نے ٹھیك نہیں کہا کیونکہ اس میں حنش نامی راوی متروك ہے لیکن امام بیہقی کے نزدیك اس کے لئے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے شاہد موجود ہے۔ت) (ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں تخریج کی اور حاکم نے مستدرك میں دراج کے طریقے سے ابوحجیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے فرمایا۔ت)یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو حرام مال جمع کرے پھر اسے خیرات میں دے اس کے لئے ثواب کچھ نہ ہوگا اور اس کا وبال اس پر ہوگا۔ (امام طبرانی نے ابوالطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے روایت ہے۔ (ت)یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو حرام مال کھائے پس اس میں سے غلام آزاد کرے اور صلہ رحم کرے تویہ بھی اس پر وبال ٹھہرے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع