30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خالد ان خالدا اعرض عن الاشتراء من المشتری ھذہ المدۃ فلایفید عرض الثمن بعد ذٰلك اھ بالتعریب،فانظرکیف جعل المسقط مثبتا،و الاعراض عن المسقط مسقطا۔ومن جہلہ ایضا التعلیل بعدم طلب المواثبۃ،فانہ لاذکر لہ فی السوال،فمن این لك انہ لم یواثب ومن جہلہ ایضا التعلیل الثالث بان قطعۃ بکر لما کانت جزء من قطعۃ خالد، فالبکر شفیع بنفسہ،لان الرجل فی امثال الصورۃ یکون شفیعا بدون القبض فکیف والبکر قابض،قال فی الہندیۃ ولوا شتری دار اولم یقبضہا حتی بیعت داراخری بجنبہا،فلہ الشفعۃ کذا فی محیط السرخسی [1]،فثبت انہ لا شفعۃ لخالد مع بکر اھ معربا۔اقول:کون قطعۃ بکر جزء من قطعۃ خالد، ان جعلہ شفیعا فلقطعۃ خالد لا لقطعۃ زید،وانما الکلام فی قطعۃ زید،وایضا شفعۃ بکر مبتنیۃ علی کونہ شریکا لقطعۃ زید فی الطریق حق،لو لم یکن ھناك خالد ولاارضہ لکان بکر شفیعا ایضا،فقد اخطاء من وجہین،اھمال المبنی الحقیقی والبناء علی امراجنبی وایضا کیف ینفی |
ہوئے کہا کہ خالد نے اس مدت میں مشتری سے خریدنے سے اعراض کیا لہذا اس کے بعد خالد کا ثمن کی پیشکش کرنا مفید نہ ہوگا اھ عربی کے ساتھ،تو غور کرو اس نے کس طرح مسقط کو مثبت اور مسقط سے اعراض کو شفعہ کے لئے مسقط بنایا،اور اس کی یہ بھی جہالت ہے کہ حق شفعہ کے عدم مطالبہ کویہاں علت بنایا حالانکہ اس کا سوال میں کوئی ذکر نہیں ہے تو اے مدعی علم! تجھے کہاں سے معلوم ہوگیا کہ اس نے اس حق کا مطالبہ نہیں کیا،اور ایك جہالت یہ بھی ہے کہ اس نے تیسری علت یہ بنائی کہ بکر کا قطعہ زمین خالد کے قطعہ کا جز ہے تو یوں بکرخود شفیع ہوا کیونکہ اس جیسی صورت میں بغیر قبضہ کے آدمی شفیع ہوجاتاہے جبکہ بکر قابض ہےتو کیوں شفیع نہ ہو، ہندیہ میں ہے اگر مکان خریدا اور ابھی قبضہ نہ کیا تھا کہ پڑوس میں ایك مکان فروخت ہوا تو اس خریدار کو شفعہ کا حق ہے۔ محیط میں یوں ہے۔تو ثابت کہ خالد کو شفعہ کا حق بکر کے مقابلہ میں نہیں ہے اھ، اقول:(میں کہتاہوں)بکر کے قطعہ کا خالد کے قطعہ کا جز ہونا اگر شفعہ کو بنائے تو خالد کے قطعہ کے لئے بنائے نہ کہ بکر کے قطعہ کے لئے،حالانکہ بات بکر کے قطعہ کے ہورہی ہے،نیز یہ کہ بکر کو شفعہ کاحق زید کے قطعہ کے راستہ میں شریك ہونے پر مبنی ہے اور وہ برحق ہے خواہ وہاں خالد اور اس کی زمین نہ ہو،بکر پھر بھی شفیع ہے تو اس نے دو طرح کی خطائیں کیں،حقیقی مبنی کومہمل بنانا اور اجنبی چیز کو مبنٰی بنانا،نیز یہ صاحب اپنے(بیان کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع