30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو کان المشتری شریکا وللدار جارفلا شفعۃ للجار مع وجودہ [1]اھ ملخصا۔ |
اگر مشتری مکان میں خود شریك ہو تو اس کی موجودگی میں پڑوسی کو اس مکان میں شفعہ کاحق نہیں ہے اھ ملخصا۔(ت) |
عقودالدریہ میں ہے:
|
لوکان الثالث جار افقط فلاشفعہ لہ لان المشتری خلیط،فیقدم علی الجار [2]۔ |
اگر تیسرا آدمی صرف پڑوسی ہو تو اس کو شفعہ کاحق نہیں ہے کیونکہ مشتری خود شریك ہے لہذا وہ پڑسی پر مقدم ہے۔(ت) |
ثانیًا: اگر شفیع ہوتا بھی تو اس کا مشتری سے طالب بیع ہونا خود ہی اسقاط شفعہ کے لئے بس ہے۔ درمختارمیں ہے:
|
یبطلہا ان استاجرہا اوساومہا بیعا اواجارۃ ملتقی" او طلب منہ ان یولیہ عقد الشراء [3]۔ |
مبیع کو اجارہ پر مانگا۔یا اجارہ یا بیع کے طورپر بھاؤ لگایا تو اس کا حق شفعہ باطل ہوجائے گا۔ملتقی یا مشتری سے شراء کا متولی ہونا چاہا۔(ت) |
منح الغفار میں ہے:
|
لان بالاقدام علی الشراء من المشتری اعرض عن الطلب وبہ تبطل الشفعۃ انتہی [4]۔ اقول: ومن ھٰھنا علم جہل بعض من یدعی عــــــہ العلم۔ حیث قال فی جواب ھذاالسوال معللا لا نعدام شفعۃ |
کیونکہ اس کا مشتری سے خریدنے کا اقدام شفعہ کے طلب سے اعراض ہے جبکہ اس اعراض سے شفعہ باطل ہوجاتاہے انتہی(ت) |
عــــــہ:وھو امیرا حمد سہسوانی ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع