30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لُغت |
|
ترجمہ رفیعیہ،ترجمہ فارسی شاہ ولی اللہ،ذخیرہ عقبٰی،صحاح، نفائس،تحفۃ المومنین،منتخب رشیدی وغیرہ سے مضمون بالا کا ثبوت۔ |
۳۹۸ |
|
عرب میں لفظ بوم صرف الو کے لئے ہی موضوع نہیں۔ |
۳۱۷ |
بھینس بقر کی ایك نوع ہے اس لئے لفظ بقر اس کو شامل ہے،الحاق کی ضرورت نہیں۔ |
۴۰۱ |
|
رات میں اڑنے والے ہر پر ند کو عربی میں بوم کہتے ہیں۔ |
۳۱۷ |
اگر کنز کے لفظ"الجاموس کالبقر"سے شبہ ہوتو ایسے ہی ہے جیسے"البخت کالاعراب" |
۴۰۲ |
|
بوم غیر ذی مخلب پر ند کو بھی کہتے ہیں۔ |
۳۱۷ |
عرفًا گائے اوربھینس میں فرق ہونے کا بیان۔ |
۴۰۴ |
|
مارماہی کی تشریح اورمختلف زبانوں میں اس کے نام کا بیان۔ |
۳۲۵ |
جملہ اہل تفسیر،اہلحدیث،اہل فقہ،اہل لغت کیا عربی کیا عجمی، غنم کی دو نوعیں مانتے ہیں ضان اور معز۔ کفایۃ الراضی،مجع بحار الانوار،مرقاۃ،شرح الکنز،قاموس،مختار الصحاح،ذخیرۃ العقبٰی، غیاث کی عبارت سے اس کا ثبوت کہ عربی حضرات جس کو معز کہتے ہیں فارسی اسی کو بز اور عربی جس کو ضان کہتے ہیں فارسی میں اس کو میش۔ |
۴۰۷ |
|
سجگی اردو زبان کالفظ نہیں اس لئے اس سے لاعلمی۔ |
۳۳۱ |
شیخ محقق اور علامہ شامی کے قول سے تائید مزید۔ |
۴۰۸ |
|
گھوڑا،خچر،گدھا بہیمۃ الانعام سے نہیں۔ |
۳۹۶ |
علمائے تفسیر وحدیث وفقہ ولغت متفق ہیں کہ ضان اور معز میں صوف اور شعر کا فرق ہے۔ |
۴۱۱ |
|
مصباح سے بہیمۃ الانعام کی تصریح۔ |
۳۹۶ |
امام احمد کی روایت کہ وہ ایك حدیث اور مرقاۃ کی اس کی تشریح سے استدلال کہ فرق صرف شعر وصوف کاہے۔ |
۴۱۲ |
|
شاہ رفیع الدین صاحب کے ترجمہ سے بھیڑ بکری کے ایك جنس ہونے کا ثبوت۔ |
۳۹۷ |
امام تفتازانی اور علامہ سید شریف کے قول سے مضمون بالا کی سند حمد ومدح میں ترادف ہے۔ |
۴۱۴ |
|
ایسے موقعہ پر قول فیصل علمائے لغت کی بات ہوتی ہے۔ اور جس کو بھی عربی وفارسی و اردو پر عبور ہوجانتاہے کہ ہندی زبان میں لفظ بھیڑ وہی ہے جسے فارسی میں میش اور عربی میں ضان کہتے ہیں۔ |
۳۹۷ |
اہل لغت کا مشہور قاعدہ ہے کہ نکرہ بول کر شے معین مراد لیتے اور معرفہ بول کر شے معین مراد لیتے ہیں اور معرفہ بول کرغیر معین۔ |
۴۱۵ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع