30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعریف میں مساواۃ کی شرط ظاہر ہے اور بلادلیل ظاہر کے خلاف پر حمل جائز نہیں۔ |
۴۱۴ |
یہ حکم مطلقًا ضروری نہیں،جہاں دونوں میں تنافی ہو وہاں ایسا کیا جائے گا،اور تنافی نہ ہو تو مطلق کو مطلق ہی رکھا جائے گا۔ |
۵۱۷ |
|
کسی چیز کافی نفسہٖ جائز ہونا اور بات ہے اور کسی کلام کا اس پر محمول ہونا اور بات ہے۔ |
۴۱۵ |
دونوں کلمے اگر حکم منفی میں واقع ہوں یا اسباب متعدد میں واقع ہوں،تو ان میں تنافی نہیں اور حمل ضروری نہیں۔ |
۵۱۷ |
|
شرعیات میں بدون قیام قرینہ اعم سے تفسیر باطل ہے۔ |
۴۱۶ |
امتناع جمع بین المطلق والمقید وجوب حمل المطلق علی المقید کی مثال۔ |
۵۱۸ |
|
امام غزی کی تحریر سے مقام تقیید میں اطلاق عام کی شناعت۔ |
۴۱۶ |
جمع کا حکم حکم وجوبی میں ہے جوازواستحباب میں نہیں۔ |
۵۱۹ |
|
جانور میں اطراف بمنزلہ اوصاف ہیں۔ |
۴۲۸ |
قربانی اور ہدی کے جانور میں دفع قیمت ناجائز ہونے کی علت کا بیان۔ |
۵۲۵ |
|
جانور میں اطراف کے مقابلہ میں کوئی دام نہیں ہوتا۔ |
۴۲۸ |
حدیث کے لفظ فلا اضحیۃ لہ سے خاص بیع ممنوع ہونے پر استدلال۔ |
۵۲۵ |
|
قربانی میں قربت مقصود ہ خون بہانا ہے۔ اسی لئے گوشت وغیرہ کا صدقہ واجب نہ ہوا۔ |
۴۶۶ |
بیع للتصدق بیع برائے دیگر امور خیر اکل،ادخار تو شرعا مامور ہیں،تو ان پر فلا اضحیہ لہ مرتب نہ ہوگا بلکہ اس سے مراد وہی بیع ہوگی جو مستہلك سے ہو اور اپنی ذات کے لئے ہو۔ |
۵۲۵ |
|
چرم قربانی کا مصرف نہ تو صرف کارخیر ہے نہ کوئی ایسی بات پیدا ہوئی جس سے تصدق واجب ہو۔ |
۵۱۱ |
صاحب ہدایہ کی نص کی اباحۃ اور تملیك ایك دوسرے کی ضد ہیں۔ |
۵۳۹ |
|
اپنے لئے بیچا تو تمول ہوا،لہذا س کا صدقہ واجب ہوا۔ |
۵۱۱ |
فقہاء کا ضابطہ کہ اطعام کا لفظ اباحۃ کے لئے ہے اور ایتا ء کا تملیك کے لئے |
۵۴۰ |
|
قربانی کا اصل مقصد خون بہانا ہے تصدق نہیں۔ |
۵۱۱ |
امام غزالی،امام علائی،صدرالشریعۃ اور علامہ شمس محمد اور شامی کی تصریح کہ تملیك واباحۃ الگ الگ دو۲ تصرف ہیں۔ |
۵۴۰ |
|
اس اصول فقہی کی بحث کہ حادثہ اور حکم ایك ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کیاجائے گا۔ |
۵۱۶ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع