30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قضا ودعوی |
|
شفیع کے گواہوں کی ضرورت ہے جو یہ ثابت کریں کہ بیع کے قبل سے اب تك دار مشفوع بہا شفیع کی ملك ہیں یہ نہ ہو تو مدعی علیہا کی قسم وہ قسم سے انکار کرے تو شفعہ ثابت۔ |
۱۵۲ |
|
بیع کے پہلے خریدنے سے انکار کیا اور بعد میں دعوی شفعہ کیا دعوی صحیح ہے۔ |
۱۱۳ |
قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے۔ |
۱۷۶ |
|
شرکاء میں سے کسی نے دعوٰی شفعہ کیا اور دوسروں نے مزاحمت نہ کی توپوری جائداد اسی شریك کو دلادی جائے گی،اور مزاحمت کی صورت میں جائداد کی سب تقسیم ہوگی۔ |
۱۲۰ |
حظرواباحت |
|
|
شرکت خواہ کتنی ہی ہو کل مبیعہ کے حق شفعہ کا دعوٰی ضرور ہے۔ ورنہ دعوٰی ساقط ہوجائیگا۔ |
۱۲۰ |
ایسے نام سے جس میں بدنامی ہونہ لے کہ شریعت میں برے کام اور برے نام دونوں سے بچنے کا حکم ہے۔ |
۱۹۳ |
|
طلب اشہاد بینہ عادلہ سے ہوچکی ہو تو طلب مواثبہ کی تین صورتیں ہیں: (۱)اگر شفیع طلب مواثبت کا وقت طلب اشہاد سے پہلے بتائے تو اس کا ثبوت بے بینہ نہ ہوگا۔ |
۱۲۶ |
جھوٹ بولنا حرام ہے۔ |
۱۹۶ |
|
جو اصل کے خلاف دعوٰی کرے دلیل سے دعوٰی ثابت کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ |
۱۲۷ |
اپنا حق وصول کرنے اور اپنے سے ظلم دفع کرنے کے لئے پہلودار بات کہہ سکتے ہیں جبکہ صدق میں مضرنہ ہو۔ |
۱۹۶ |
|
جس چیز کے استناف کافی الحال مالك نہ ہو گزرے زمانے میں اس کا دعوٰی کرے تو بے بینہ مقبول نہیں۔ |
۱۲۷ |
صدق کا مفسدہ کذب سے بڑھ جائے تو مجبوری کذب کی بھی اجازت ہے۔ |
۱۹۷ |
|
عبارت علماء میں جہاں جہاں یہ تصریحات ہیں کہ طلب مواثبت بے بینہ کے ثابت نہیں اس کا مطلب یہی صورت ہے۔ |
۱۲۷ |
مقرر مالگزاری کا ادانہ کرنا ظلم وگناہ ہے۔ |
۲۰۶ |
|
طلب اشہاد بینہ سے ثابت نہ ہو،یا ثابت ہو اور شفیع طلب مواثبت کا زمانہ مقدم میں دعوٰی کرتا ہو،ان دونوں صورتوں میں شفیع چاہے تو مشتری سے حلف لے لے کہ والله مجھے معلوم نہیں کہ مدعی نے طلب مواثبت کی ہے۔ |
۱۲۸ |
رات کا ذبیحہ مکروہ تنزیہی ہے اور ضرورت کے وقت کوئی کراہت نہیں۔ |
۲۱۳ |
|
نہ تو مطلقًا اضافت طلب بزمان ماضی شفیع کو مدعی کردے گی، نہ صرف اتنا کہنا کافی کہ میں نے بمجرد علم طلب کی۔ |
۱۳۵ |
کراہت بھی اس فعل میں ہے۔ صحیح ذبح ہوجائے تو ذبیحہ میں کوئی کراہت نہیں۔ |
۲۱۳ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع