30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والتصدق باللحم خارج عنہ کالا ضحیۃ والدم دم شکر لاجبر،وقد صرح العلماء کالشیخ فی اللمعات وغیرہ فی غیرہا ان العقیقۃ کالاضحیۃ فی جمیع الشرائط والاحکام،ومعلوم ان الاضاحی تقسم لحومہا اثلاثا ثلث طعمہ و ثلث ہدیۃ وثلث صدقۃ و ھذا ایضا علی وجہ الاستحباب دون الوجوب حتی لو اکل الکل جاز فکذا العقیقۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کے ساتھ ادا ہوجاتا ہے۔اور گوشت کو صدقہ کرنا اس سے خارج ہے جیساکہ قربانی میں ہوتاہے۔اور عقیقہ کے لئے جانور ذبح کرنا بطور شکر ہے اس پر جبر نہیں علماء کرام نے صراحت فرمائی جیساکہ شیخ محقق نے لمعات میں اور دیگر ائمہ نے دیگر کتب میں فرمایا کہ بیشك عقیقہ تمام شرائط واحکام میں قربانی کی مثل ہے۔اور یہ بات معلوم ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتاہے ایك حصہ خود کھانے کے لئے دوسرا حصہ ہدیہ وتحفہ کے لئے اور تیسرا حصہ صدقہ کے لئے،اورا یسا کرنا بھی مستحب ہے نہ کہ واجب یہاں تك کہ اگرتمام گوشت خود کھالے تب بھی جائز ہے۔لہذا ایسا ہی معاملہ عقیقہ میں ہوگا والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۳۲۴ و ۳۲۵: شیخ احمد حسین صاحب از مقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)مردہ کے نام پر عقیقہ دیا جاسکتاہے یانہیں؟ اور بعض عالم یہ کہتے ہیں کہ مردہ کے نام پر قربانی کرنا درست ہے لہذا عقیقہ بھی درست ہے۔اگر بچہ ہو کہ سات دن سے پہلےمرے تو کیا حکم ہے؟
(۲)ایك گائے سے تین یا چار یا سات لڑکی کا عقیقہ دے سکتاہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)مردہ کی طرف سے قربانی بلا شبہ جائز ہے اور عقیقہ شکر نعمت ہے بعد زوال نعمت اس کا محل نہیں،ولہذا اموات بلکہ ان کی طرف سے جواب تك پیدا نہ ہوئے قربانی ثابت ہے۔اور عقیقہ بعد موت کہیں ثابت نہیں،جو بچہ سات دن سے پہلے مرگیا عقیقہ نہ کرنے سے جو الزام آتا کہ وہ شفیع ہوگا،یہاں نہ ہوگا کہ شرع نے جو اس کا وقت مقرر فرمایا اس سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا،اور سات دن بعد مرا اور استطاعت تھی تو اس کی شفاعت کا استحقاق نہیں،والله تعالٰی اعلم۔
(۲)دے سکتاہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۶:ازشہربریلی مدرسہ اہلسنت مسئولہ مولوی اسیر الدین بنگالی یکے از طلباء مدرسہ مذکورہ ۲۴ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
بچہ نابالغ اگر قبل عقیقہ کے مرجائے تو بعد مرنے کے اگر عقیقہ کیا جائے تو ثواب عقیقہ کاملے گا یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع