30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
بھنگن یا کسی کافرہ کو جنائی بنانا سخت حرام ہے۔نہ کافرہ کو ران دی جائے،اور بالوں کی چاندی مسکین کا حق ہے۔نائی مسکین ہو تو مضائقہ نہیں،اصل حکم یہ ہے پھرجس نے اس کے خلاف کیا،بھنگن کو ران،غنی نائی کو چاندی دی تو برا کیا،مگر عقیقہ ہوگیا، سری کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں ہے جسے چاہے دے،جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ جوانی بڑھاپے میں بھی اپنا عقیقہ کر سکتا ہے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ تا ۳۱۹:از موضع خود مئو ڈاك خانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب ۶/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)حکم ہے کہ عقیقہ میں سرنائی کو اور ران دائی جنائی کو دی جائے،فی زماننا جنائی اکثر چمارن یا ڈومن ہوتی ہے۔اور ان کا مذہب ظاہر ہے تو کیا ان مذکور بموجب حکم جنائی کو جو چمارن ہے یا ڈومن ہے دی جائے۔
(۲)گوشت عقیقہ کا صاحب عقیقہ یا اس کے والد کے کھانے کی نسبت اکثر بزرگ تحریر فرماتے ہیں کہ درست ہے،اور بعض بزرگ تجویز فرماتے ہیں کہ مکروہ ہے۔اورنہ کھانا انسب ہے۔تو اب قطعی حکم معلوم ہونا چاہئے،کیا کیا جائے،جو طریقہ وسنت نبوی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف نہ ہو،
(۳)اکثر دیکھا گیا کہ لوگ بکرا منگا کر اور اس کو لڑکے یا لڑکی کے نام ذبح کرکے کچھ گوشت چیل،کوا کو کھلاتے ہیں،اور کچھ فقراء کو تقسیم کرتے ہیں،یہ فعل کس حد تك صحیح ہے؟
الجواب:
(۱)سرنائی کو دینے کا نہ کہیں حکم نہ ممانعت،ایك رواجی بات ہے۔جنائی کو ران دینے کاحکم،البتہ حدیث ہے،مگر کافرہ سے یہ کام لینا حرام ہے۔کافرہ سے مسلمان عورت کو ایسے پر دے کا حکم ہے جیسے مرد سے کہ سوا منہ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور تلووں کے کچھ نہ دکھائے،نہ کہ خاص جنائی کا کام۔مجتبٰی شرح قدوری وتنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
|
الذمیۃکالرجل الاجنبی فی الاصح فلا تنظر الی بدن المسلمۃ [1]۔ |
اصح قول کے مطابق ذمیہ عورت اجنبی مرد کی طرح ہے لہذا وہ مسلمان عورت کے بدن کو نہ دیکھے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع