30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فُلاَن اِبْنِ فُلاَں یا فُلاَنَہ بَنْتِ فُلاَنہ کہے۔بچے کو اس کے باپ کی طرف نسبت کرے۔
(۷)ہڈیاں توڑنے میں حرج نہیں،اور نہ توڑنا بہتر ہے،اور دفن کرنا افضل ہے۔
(۸)عقیقہ ساتویں دن افضل ہے۔نہ ہوسکے تو چودھویں،ورنہ اکیسویں،ورنہ زندگی بھر میں جب کبھی ہو،وقت دن کا ہو۔رات کوذبح کرنا مکروہ ہے۔
(۹)کم سے کم ایك تو ہے ہی،اور پسر کے لئے دو افضل ہیں،استطاعت نہ ہو تو ایك بھی کافی ہے۔
(۱۰)گوشت بنانے کی اُجرت داموں میں مجرا کرسکتاہے۔
(۱۱)سرے پائے خود کھائے خواہ اقرباء مساکین جسے چاہے۔خواہ سب حجام یا سب سقا کو دے دے شرع مطہر نے ان کا کوئی خاص حق اس میں مقرر نہ فرمایا۔فقط۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۱ تا۳۱۴: از پچروکھی ضلع گیا ڈاکخانہ اکبر پور مسئولہ سید محمد ولی عالم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)چلہ کے اندر عقیقہ کرنا جائز ہے یاتاخیر؟
(۲)ایك خصی سے عقیقہ ہوگا یانہیں؟
(۳)گوشت عقیقہ کا آباؤ اجداد کو کھانا چاہئے یانہیں؟
(۴)ہڈی مذبوح کی توڑنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)عقیقہ ولادت کے ساتویں روز سنت ہے۔اور یہی افضل ہے۔ورنہ چودھویں دن،ورنہ اکیسویں دن۔
(۲)خصی عقیقہ اور قربانی میں افضل ہے۔
(۳)عقیقہ کا گوشت آباء واجداد بھی کھاسکتے ہیں مثل قربانی اس میں بھی تین حصے کرنا مستحب ہے۔
(۴)اس کی ہڈی توڑنے کی ممانعت میں علماء تفاولا نہ توڑنا بہتر جانتے ہیں،پسر کے عقیقہ میں دو جانور افضل ہیں اور ایك بھی کافی ہے اگر چہ خصی نہ ہو،عقود الدریہ میں ہے:
|
قال فی السراج الوہاج اذا ارادان یعق عن الولد یذبح عن الغلام شاتین وعن الجاریۃ شاۃ ولو ذبح عن الغلام شاۃ جاز لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عق عن الحسن |
السراج الوہاج میں فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایك بکری ذبح کرے،اگر لڑکے کی طرف سے ایك بکری ذبح کی تب بھی جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت امام حسن |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع