30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدلا اس تبدیل سے ثیاب وظروف جو حاصل کئے،مباح الاستعمال ہیں،مگر تصدق کی نیت سے عدول ہوا،اور یہ مکروہ ہے۔لہذا مناسب یہ ہے کہ اسے قربات وفقراء ہی پر صرف کردے۔
غایۃ البیان علامہ اتقانی شرح ہدایہ میں شرح مختصر الکرخی للامام القدوری رحمہم الله تعالٰی سے ہے۔
|
جواز الاشراك بعد الشراء للاضحیۃ محمول علی ان ملکہ لا یزول بالشراء الا انہ یکرہ لانہ قد وعد وعدا فلا ینبغی ان یرجع فیہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قربانی کے لئے جانور خریدنے کے بعد اس میں دوسرے کو شریك کرنے کا جائز ہونا اس بات پر محمول ہے کہ خریداری کے سبب سے اس کی ملکیت زائل نہیں ہوئی،مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس نے ایك وعدہ کیا ہے جس سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۹۸ و ۲۹۹: ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید نے عقیقے کے لئے دو راسیں خریدیں،بائع کہتاہے میرے قیاس میں یہ راس ساڑھے دس مہینے کی ہے دوسری میں شبہہ ہے،بظاہر فربہ ہیں،ان کی قربانی درست ہے یانہیں؟
(۲)قصاب سے عقیقے کے لئے ایك بکری خریدی،وہ کہتاہے سال بھر کی ہے۔مگر دیکھنے سے اس کی حالت اس قابل نہیں،سال بھر کا بچہ جو دانت توڑتاہے وہ اس نے ابھی نہ توڑے،تو اس صورت میں اس کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)سال بھر سے کم کی بکری عقیقے یا قربانی میں نہیں ہوسکتی،اگر مشکوك حالت ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہے۔کہ سال بھر کی نہ ہونا معلوم ہو لان عدم العلم بتحقق الشرط کعلم العدم(کیونکہ شرط کے متحقق ہونے کا عدم علم اس کے عدم تحقق کے علم کی طرح ہے۔ت)خصوصا بائع کا بیان کہ وہ اس سے زیادہ آگاہ ہے۔اور سال بھر سے کم کی ظاہر کرنے میں اس کا کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا عکس متوقع ہے کہ جب مشتری اپنے مطلب کی نہ جانے گا نہ لے گا۔والله
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع