30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مولوی رشید احمد صاحب کی غلطی کا منشا یہی ہے کہ انھوں نے کفارات واجبہ میں بھی اباحت کافی دیکھی تو کہہ دیا کہ صدقات واجبہ میں بھی مطلقًا اباحت کافی ہے۔ |
۵۴۵ |
حدیث مبارك سے اس اطلاق کا ثبوت۔ |
۵۵۲ |
|
مولوی رشید احمد کے اس استدلال میں حد اوسط مکرر نہیں۔ |
۵۴۵ |
(۶)اس اطلاق میں غیر سے بھی قطع نظر کرلی جاتی ہے اور اپنے کو نفع پہنچانے کا نام بھی صدقہ ہونا ہے۔ |
۵۵۴ |
|
نقایہ کی تصریح کہ تصرف تملیك سے کفارات مستثنٰی ہے۔ |
۵۴۶ |
حدیث مبارك سے اس اطلاق کا ثبوت۔ |
۵۵۴ |
|
(۳)اس اطلاق میں صدقہ سے فقر کو قطع نظر کرلیا جاتاہے تو اس میں اباحت تملیك اور مالدار وغریب سب شامل ہوتے ہیں۔ |
۵۴۶ |
فقہاء کے قول فی الاضاحی یتصدق بالثلث میں تصدق سے مراد معنی اول نہیں کہ تملیك ضروری ہو۔ |
۵۵۵ |
|
حدیث شریف اور شامی سے اس کی تائید۔ |
۵۴۷ |
دلیل قرآن عظیم میں اس موقع پر اطعام کا لفظ ہے جس کے لئے اباحت کافی ہے۔ |
۵۵۵ |
|
(۴)اس اطلاق میں نہ تملیك سے غرض نہ اباحت سے،اس میں نفع مسلمین کے لئے ہر تصرف مال داخل ہے۔ جیسے نہر اور کنویں بنوانا۔ |
۵۴۷ |
مصنف کی تحقیق کہ قربانی میں تین جہتیں بیان کی گئیں،اکل،ادخار اور تصدق،اسی کو کہیں"ایتجروا"کے لفظ سے تعبیر کیا اور کہیں"اطعموا"کے لفظ سے تعبیر کیا۔ تو تصدق کے ایسے ہی معنی مراد لینے ہوں گے جو ان سب کو عام ہو اور وہ صدقہ غیر واجبہ غیر ضروری التملیك ہی ہوں گے،اور تملیك ضروری نہ ہوگی تو مسجد اور مدرسہ میں صرف ہوسکیں گے۔ |
۵۵۵ |
|
حدیث مبارک،اقوال صدر الشریعہ۔ صاحب ہدایہ خیر الدین رملی سے اس کی توضیح و تائید۔ |
۵۴۷ |
اگر صدقہ واجبہ ضروری التملیك مراد نہ ہو تو کونسا صدقہ مراد ہے۔ |
۵۵۶ |
|
خانیہ اور دیگر کتب فتاوٰی کے ایك جزئیی سے تائید مزید۔ |
۵۴۹ |
نبیشہ ہذلی رضی الله تعالٰی عنہ کی حدیث میں لفظ"ایتجار"آیا ہے جس کا مطلب تمام امور خیر ہی مراد ہیں۔ اور یہ ہمارے بیان کردہ اطلاقات میں چوتھا ہے۔ |
۵۵۷ |
|
(۵)اس اطلاق میں مال کی قید سے بھی قطع نظر کرلی جاتی ہے اور مطلقًا نفع رسانی کا نام صدقہ ہوتاہے۔ |
۵۵۲ |
اول کے علاوہ جو بھی مراد لے لیں ہم کو مضر نہیں کہ اورکسی میں تملیك ضروری نہیں۔ |
۵۵۷ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع