30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حالانکہ ضرور وقت نحر بدنوں کے بدن پر تھیں،بلکہ وہی طریقہ مسنونہ نحر کی ضامن ہوئیں، میں زیاد بن جبیر سے ہے:
|
رأیت ان عمر اتی علی رجل قد اناخ بدنتہ ینحر قال ابعثہا قیاما مقیدۃ سنۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم [1]۔ |
میں نے ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہما کو دیکھا آپ ایك ایسے مرد کے پاس آئے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا،انھوں نے فرمایا اس کو کھڑا کرکے باندھو یہ حضرت محمدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی سنت ہے۔(ت) |
عمدۃ القاری میں ہے:
|
مقیدۃ معناہ معقولۃ برجل وھی قائمۃ علی الثلاث [2]۔ |
مقیدہ کامعنی ہے کہ رسی سے اس کا ایك پاؤں باندھا ہو اہو اور وہ تین پاؤں پر کھڑا ہو۔(ت) |
بالجملہ اگر کوئی اپنا گھر تصدق کردے اور اس پر قادر ہو،ممانعت نہیں،کلام اس میں ہے کہ قربانی کی جھولیں،رسیاں تصدق کرنے کا حکم ہے۔اس کا کہیں ثبوت نہیں،نہ حدیث میں نہ فقہ میں،ومن ادعی فعلیہ البیان(جو دعوٰی کرے دلیل بیان کرنا اس پر لازم ہے۔ت)ولہذا آج تك مسلمانوں میں کہیں اس کا رواج مسموع نہیں،البتہ اگر کوئی شخص تعظیم ضحایا کے لئے ان پر جھولیں ڈالے اور انھیں حسب حثیت مزین وبیش بہا کرے۔اور اس سے شعائر اسلام کی زینت اور فقرائے مسلمین کی منفعت چاہے تو ضرور اسے ان جھولوں کے تصدق کا حکم دیا جائے گا۔اور اس سے بازر ہنا اسے شنیع ہوگا کہ الله عزوجل سے وعدہ کرکے رجوع نہ ہو،کما بینا فی فتاوٰنا وباﷲ التوفیق(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا اور توفیق الله تعالٰی کے ساتھ۔(ت) والله تعالٰی اعلم۔
_____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع