30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں سو۱۰۰ اونٹ ہدی بھیجے،ان پر جھولیں تھیں کہ بحکم اقدس بعد نحر تصدق کی گئیں کما تقدم عن صحیح البخاری(جیسا کہ صحیح بخاری سے گزرا _____ ت)حجۃ الوداع شریف کھلی بہار کے موسم میں تھا،فقیر نے حساب کیا ۹ / ذی الحجہ ۱۰ ہجریہ روز جمعہ کو چھٹی مارچ عــــــہ ۶۳۲ء تھی۔ولہذا علماء اسے ماہ تحویل حمل میں بتاتے ہیں،صحیح بخاری میں خطبہ حجۃ الوداع ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے دہم ذی الحجہ کو ارشاد فرمایا:
|
الزمان قد استدار کہیئتہ،یوم خلق اﷲ السمٰوٰت والارض،وفیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای شہر ھذا قلنا اﷲ ورسول اعلم۔قال الیس ذوالحجۃ، قال فای یوم ھذا قلنا اﷲ ورسول اعلم،قال الیس یوم النحر [1]۔ |
زمانہ اس دن کی ہیت پر گردش کررہا ہے جس دن الله تعالٰی نے زمین وآسمان پیدا فرمایا تھا۔اسی میں رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہی ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے۔ ہم (صحابہ)نے عرض کیا الله اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا:یہ کون سا دن ہے،ہم نے عرض کیا کہ الله اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں،آپ نے فرمایا:کیا یہ یوم النحر نہیں ہے۔(ت) |
امام ابن حجر نے فتح الباری کتاب بدء الخلق میں۔پھر امام قسطلانی نے ارشاد الساری میں نقل کیا کہ یہ ارشاد اقدس تحویل حمل کے مہینے میں تھا:
|
حیث قال زعم یوسف بن عبدالملك فی کتابہ تفضیل الازمنۃ ان ہذہ المقالۃ صدرت من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی شہر مارس،وھو ادار |
جہاں فرمایا کہ یوسف بن عبدالملك نے اپنی کتاب تفصیل الازمنہ میں کہا ہے بیشك رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی یہ گفتگو مارچ کے مہینے میں صادر ہوئی جس کانام رومی میں اُدار اور |
عــــــہ: یعنی اس وقت کی تعبیر میں ورنہ آغاز سن عیسوی کے حساب سے دسویں مارچ تھی،جیسا کہ ہم نے اپنے ایك رسالہ متعلقہ"تحقیق سال عیسوی"میں ثابت کیا ۱۲ منہ قدس سرہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع