30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کانت الجلال مرتفعۃ ان لایجللہا حتی یغدوالی عرفات ان کانت بثمن یسیر فمن حین یحرم یجلل [1](ملخصا) |
کے وقت اتار لیا جائے تاکہ کانٹے انھیں پھاڑ نہ دیں،اورفرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ اگر جھلیں گراں قیمت ہوں تو عرفہ کے دن عرفات کی طرف روانگی سے قبل نہ پہنائے اور اگر وہ کم قیمت والی ہو تو احرام باندھتے وقت ہی پہنادے(ملخصا)(ت) |
امام علامہ عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
|
الجلال جمع جل وھو الذی یطرح علی ظہر الحیوان من الابل والفرس والحمار والبغل وہذا من حیث العرف،و لکن العلماء قالوا ان التجلیل مختص بالابل من کساء ونحوھا قال ابن بطال کان مالك و ابو حنیفۃ والشامی یرون تجلیل البُدن [2]۔ |
جلال جل کی جمع ہے۔او روہ اس شیئ کو کہتے ہیں جو اونٹ، گھوڑے،گدھے اور خچر وغیرہ جانوروں کی پشت پر ڈالی جاتی ہے۔یہ عرف کے اعتبار سے ہے۔لیکن علماء نے فرمایا کہ کپڑے وغیرہ جھل پہنانا صرف اونٹ کے ساتھ مختص ہے۔ ابن بطال نے کہا کہ امام ابوحنیفہ امام مالك اور امام شافعی رحمہم الله تعالٰی ہدی کے جانوروں پر جھل ڈالنے کو جائز سمجھتے تھے۔(ت) |
امام جلیل ابوالبرکات نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
|
فان کانت بدنۃ قلدہا بمزادۃ اونعل والتقلید احب من التجلیل لان التقلید ذکر فی القراٰن قال اﷲ تعالٰی ولا القلائد ولا ذکرللتجلیل فیہ،وان کان کلاھما ثابتا بالسنۃ لان ھدایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانت مقلدۃ مجللۃ ولانہ قد تجلل البدنۃ لا علی وجہ التقرب بخلاف التقلید [3]۔ |
اگر ہدی کا جانور(اونٹ یا گائے)ہو تو اس کو چمڑے یا نعل کا ہار پہنادے اور ہار پہنانا جھل پہنانے سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ ہارپہنانے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔الله تعالٰی کا فرمان ہے ولا القلائد(اور نہ وہ جنھیں ہار ڈالے گئے)اور جھل پہنانے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے اگر چہ دونوں سنت رسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہیں کیونکہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کو ہار اور جھل پہنائے گئے تھے اور اس لئے بھی کہ جھل کبھی بلانیت تقرب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع