30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵علمائے کرام نے فرمایا:ان جھولوں کا اپنی حیثیت تمول کے مناسب ہونا مستحب ہے۔ہدی بھیجنے والاجیسی استطاعت رکھتاہو ویسی ہی بیش قیمت جھولیں بنائے کہ مساکین کا زیادہ نفع اور شعائر کی زیادہ تعظیم ہو سیدنا عبدالله بن عمر فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہما ان پر بیش بہا کپڑوں کی جھولیں ڈالتے اور ۶مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر اتار کرتہہ کرکے رکھ چھوڑتے،۷عرفہ کے دن پھر پہناتے اور بعد نحر انھیں کعبہ معظمہ کا غلاف کرتے جب سے بیت مکرم کا غلاف مستقل تیار ہونے لگا انھیں مساکین پر تصدق کرتے۔
۸علماء فرماتے ہیں کہ راتوں کو یہ جھولیں اتار کر رکھ لی جائیں کہ کانٹوں سے ان میں کھونتا نہ لگے ان میں سے کون ساحرف قربانی کی معمولی جھولوں پرصادق ہے کہ یہ ان کے معنی میں ہوں۔
امام اجل ابو زکریا نووی قدس سرہ شرح صحیح مسلم میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:
|
فی ہذا الحدیث فوائد کثیرۃ منہا استحباب سوق الہدی وانہ یتصدق بلحومہا وجلودہا وجلالہا و انہا تجلل واستحبوا ان یکون جلا حسنا،قال القاضی التجلیل سنۃ وھو عند العلماء مختص بالابل وھو مما اشتھر من عمل السلف قالوا ان یکون بعد الاشعار لئلا یتلطخ بالدم قالوا و یستحب ان تکون قیمتہا نفاستہا بحسب حال المہدی،وکان بعض السلف یجلل بالوشی وبعضہم بالحبرۃ وبعضہم بالقباطی والملاحف والازر،قال مالك اما الجلل فتنزع فی اللیل لئلا یخرقہا الشوك قال واستحب ان |
اس حدیث میں بہت سے فائدے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں قربانی کے جانوروں کے گوشت،چمڑوں اور جھلوں کو صدقہ کیا جائے،اوریہ کہ ان جانوروں کو جھل پہنائی جائے، اور مشائخ نے اس بات کو مستحب قرار دیا کہ وہ جھل عمدہ ہو۔ قاضی نے کہا کہ جھل پہنانا سنت ہے۔اور علماء کے نزدیك وہ اونٹوں کے ساتھ مختص ہے اور یہ اسلاف کا مشہور عمل ہے۔ مشائخ نے کہا کہ ا شعار یعنی کوہان میں نیزہ مارکر خون نکالنے کے بعد جھل پہنائی جائے تاکہ وہ خون میں لتھڑ نہ جائے،نیز انھوں نے کہا کہ جھل کا قیمت وعمدگی میں قربانی روانہ کرنے والے کی حیثیت کے مطابق ہونا مستحب ہے۔بعض اسلاف منقش کپڑوں بعض یمنی چادروں،بعض مصر کے بنے ہوئے قیمتی کپڑوں۔لحافوں اور عمدہ چادروں کی جھلیں پہنایا کرتے تھے،امام مالك نے فرمایا۔جھلوں کو رات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع